قومی خبریں

عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت نہ دیے جانے سے سپریم کورٹ برہم، عدالت عظمیٰ کو اپنے ہی فیصلے پر اعتراض!

جسٹس بھوئیاں نے فیصلے میں کہا کہ چھوٹی بنچ بڑی بنچ کے وضع کردہ قانون کی پابند ہوتی ہے۔ عدالتی نظم و ضبط کا تقاضا ہے کہ پابند نظیر کی پیروی کی جائے اور اگر شک ہو تو کیس کو بڑی بنچ کے پاس بھیجا جائے۔

<div class="paragraphs"><p>عمر خالد اور شرجیل امام، تصویر سوشل میڈیا</p></div>

عمر خالد اور شرجیل امام، تصویر سوشل میڈیا

 

سپریم کورٹ نے پیر کے روز اپنے ہی اس فیصلے پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا جس میں 2020 کے دہلی فسادات کے ملزم عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت دینے سے انکار کر دیا گیا تھا۔ اس وقت عدالت عظمیٰ نے نارکو ٹیرر (منشیات کی دہشت گردی) معاملے میں ملزم جموں و کشمیر کے سید افتخار اندرابی کو ضمانت دی تھی اور طلبا لیڈر خالد اور شرجیل کو ضمانت نہ دیئے جانے پر عدم اتفاق کا اظہار کیا تھا۔

Published: undefined

یو اے پی اے اور این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعات کے تحت الزامات کا سامنا کر رہے اندرابی کو رہا کرتے وقت سپریم کورٹ نے بغیر ٹرائل طویل عرصہ تک جیل میں رہنے کو بنیاد بنایا۔ اندرابی کو جون 2020 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ یو اے پی اے کے معاملوں میں بھی ’ضمانت اصول ہے اور جیل استثنیٰ‘ والا قانون نافذ ہوتا ہے۔ جنوری میں عدالت نے عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت دینے سے انکار کر دیا تھا جبکہ باقی تمام ملزمین کو رہا کر دیا گیا تھا۔

Published: undefined

اپنے فیصلے میں جسٹس بی وی ناگرتنا اور اجول بھوئیاں کی بنچ نے عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت نہ دینے والی دوسری بنچ کے فیصلے سے اختلاف کیا ہے۔ انہوں نے کے اے نجیب فیصلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اندرابی کو جس عدالتی اصول کے تحت ضمانت دی جا رہی ہے وہ 3 ججوں کی بنچ نے طے کیا تھا۔ عمر خالد کے معاملے میں 2 ججوں کی بنچ نے اس اصول پر عمل نہیں کیا۔

Published: undefined

بار اینڈ بنچ کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ نے کہا کہ ضمانت ایک اصول ہے اور قید استثنیٰ ہے۔ یہ آرٹیکل 21 اور 22 سے ماخوذ ایک آئینی اصول ہے اور بے گناہی کا تصور قانون کی حکمرانی کے تحت چلنے والے کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیاد ہے۔ بینچ نے کہا کہ کے اے نجیب معاملے میں اس کا فیصلہ پابند قانون ہے اور اسے ماتحت عدالتوں، ہائی کورٹس اور یہاں تک کہ سپریم کورٹ کے ماتحت بینچ بھی اسے کمزور، نظر انداز یا درکنار نہیں کر سکتی ہیں۔ عدالت نے 2021 کے ’کے اے نجیب بمقابلہ یونین آف انڈیا کے تاریخی فیصلے میں یہ طے کیا تھا کہ یو اے پی اے جیسے سخت انسداد دہشت گردی قوانین کے تحت بھی ضمانت دی جا سکتی ہے۔ اگر مقدمے کی سماعت میں غیر معمولی تاخیر ہو اور مستقبل قریب میں ملزم کی رہائی کا امکان نہ ہو۔

Published: undefined

سپریم کورٹ نے کہا کہ گلفشاں فاطمہ بمقابلہ ریاست فیصلے میں کے اے نجیب فیصلے کی صحیح طریقے سے پیروی نہیں کی گئی۔ عدالت نے 2024 کے گروندر سنگھ مقابلہ یونین آف انڈیا فیصلے پر بھی نااتفاقی ظاہر کی اور کہا کہ چھوٹی بینچ بڑی بینچ کے فیصلوں کو کمزور نہیں کر سکتی ہے۔ عدالت نے کہا کہ گلفشاں معاملے میں بینچ کا یہ کہنا کہ کے اے نجیب کا اصول صرف غیر معمولی مقدمات میں نافذ ہوگا، صحیح تشریح نہیں ہے۔

Published: undefined

جسٹس اجول بھوئیاں نے اپنے فیصلے میں کہا کہ چھوٹی بنچ بڑی بنچ کے وضع کردہ قانون کی پابند ہوتی ہے۔ عدالتی نظم و ضبط کا تقاضا ہے کہ پابند نظیر کی پیروی کی جائے اور اگر کوئی شک ہو تو کیس کو بڑی بنچ کے پاس بھیجا جائے۔ چھوٹی بینچ، بڑی بینچ کے فیصلے کو درکنار، کمزور یا نظر انداز نہیں کر سکتی۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ ’وتالی‘ فیصلے کا استعمال یو اے پی اے معاملوں میں غیر معینہ مدت کی حراست کو صحیح ٹھہرانے کے لیے نہیں کیا جا سکتا۔ رواں برس جنوری میں سپریم کورٹ کے 2 ججوں کی بینچ نے دہلی فسادات کے ملزمین میران حیدر، گلفشاں فاطمہ، شفا الرحمان، محمد سلیم خان اور شاداب احمد کو مشروط ضمانت دے دی تھی، جبکہ اس معاملے کے مرکزی ملزمین عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دی گئی تھیں۔ دونوں ستمبر 2020 سے جیل میں بند ہیں۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined