قومی خبریں

’سیاسی طنز کو دبانا جمہوریت کے خلاف‘، ایکناتھ شندے معاملے میں کامیڈین کنال کامرا نے معافی مانگنے سے کیا انکار

کامیڈین کنال کامرا نے کہا کہ جمہوری اداروں کی طاقت کا استعمال شہریوں کو خاموش کرانے کے لیے نہیں ہونا چاہیے، خاص طور پر تب جب وہ صرف طنز یا مزاح کے ذریعے اپنی بات رکھ رہے ہوں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا 

اسٹینڈ اپ کامیڈین کنال کامرا نے مہاراشٹر قانون ساز کونسل کی استحقاق کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر ’سیاسی طنز‘ کی کھل کر وکالت کی۔ 9 اپریل 2026 کو ہوئی اس سماعت کے دوران، کامرا نے اپنے تحریری بیان میں پورے معاملے کو ایک ستم ظریفی قرار دیا اور کہا کہ انہیں محض ایک مذاق کی وجہ سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے اس دوران بالا صاحب ٹھاکرے کی وراثت کا بھی ذکر کیا۔

Published: undefined

ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع خبر کے مطابق کنال کامرا نے اپنے بیان میں کہا کہ بالا صاحب ٹھاکرے صرف ایک سیاستداں نہیں تھے، بلکہ ملک کے سب سے مشہور سیاسی کارٹونسٹوں میں سے ایک تھے۔ انہوں نے دہائیوں تک اقتدار میں بیٹھے لوگوں، یہاں تک کہ وزرائے اعظم تک پر تنقید کی اور ان کا مذاق اڑایا، لیکن ان کے خلاف کبھی استحقاق کی خلاف ورزی جیسی کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ کامرا نے کمیٹی کو یاد دلایا کہ سیاسی طنز جمہوریت کا ایک اہم حصہ ہے اور آج کے فنکار بھی اسی روایت کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

Published: undefined

کنال کامرا نے یہ بھی کہا کہ مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے جس نظریے کی نمائندگی کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں، اس کی بنیاد ہی طنز اور تنقید پر ٹکی رہی ہے۔ ایسے میں اگر اسی روایت کو آج کے دور میں روکا جاتا ہے، تو یہ اس وراثت کے خلاف ہوگا جسے خود یہ رہنما آگے بڑھانے کی بات کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ پورا معاملہ کامرا کے ایک شو ’نیا بھارت‘ سے جڑا ہے، جس میں انہوں نے بالی ووڈ کے مشہور گانے ’بھولی سی صورت‘ کی پیروڈی پیش کی تھی۔ کمیٹی کا الزام ہے کہ اس پیشکش کے ذریعے کامرا نے جان بوجھ کر نائب وزیر اعلیٰ شندے کا مذاق اڑایا اور مہاراشٹر اسمبلی کی توہین کی۔ تاہم کامرا نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کا کام 2022 کے سیاسی واقعات پر مبنی ہے اور اس سے ایوان کی کارروائی پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

Published: undefined

کامیڈین کنال کامرا نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ انہوں نے غدار لفظ کا استعمال ایک ذاتی رائے کے طور پر کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ لفظ پہلے بھی عوامی سطح پر کئی بڑے لیڈران کی طرف سے استعمال کیا جا چکا ہے، جن میں ادھو ٹھاکرے اور اجیت پوار جیسے نام شامل ہیں۔ ایسے میں ان کے خلاف کارروائی کرنا اظہار رائے کی آزادی پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔ سماعت کے دوران کمیٹی کے چیئرمین پرساد لاڈ نے تسلیم کیا کہ کامرا کا رویہ باوقار رہا، لیکن انہوں نے غیر مشروط معافی مانگنے سے انکار کر دیا۔ اس پر کامرا نے صاف کہا کہ اگر وہ معافی مانگتے ہیں تو وہ ایمانداری نہیں ہوگی اور اس سے ایک غلط مثال قائم ہوگی۔

Published: undefined

واضح رہے کہ سماعت کے بعد کامرا نے سوشل میڈیا پر بھی اپنی بات دوہرائی۔ کامرا کے مطابق انہوں نے کمیٹی سے صاف کہہ دیا ہے کہ معافی مانگنا ان کے لیے ممکن نہیں ہے، کیونکہ اس سے فنکارانہ آزادی کو خطرہ لاحق ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جمہوری اداروں کی طاقت کا استعمال شہریوں کو خاموش کرانے کے لیے نہیں ہونا چاہیے، خاص طور پر تب جب وہ صرف طنز یا مزاح کے ذریعے اپنی بات رکھ رہے ہوں۔ کامرا کا یہ موقف ایک بڑی بحث کو جنم دے رہا ہے، جس میں یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا سیاسی طنز کو محدود کیا جا سکتا ہے۔ کامرا کا کہنا ہے کہ جمہوریت میں غیر آرام دہ خیالات اور تنقید کے لیے بھی جگہ ہونی چاہیے۔ اگر فنکاروں اور کامیڈین کو خوف کے ماحول میں کام کرنا پڑے گا، تو اس سے معاشرے میں کھل کر رائے رکھنے کی روایت کمزور ہوگی۔

Published: undefined

قابل ذکر ہے کہ اس پورے واقعہ میں کامرا نے جس طرح سے بالا صاحب ٹھاکرے کی وراثت کا حوالہ دیا، وہ بحث کا ایک بڑا موضوع بن گیا ہے۔ انہوں نے یہ بتانے کی کوشش کی کہ جس روایت میں اقتدار پر تنقید کو قبول کیا جاتا تھا، آج اسی کو لے کر تنازعہ کھڑا کیا جا رہا ہے۔ آخر میں کامرا نے اپنے بیان میں یہ واضح کیا کہ ان کا مقصد کسی ادارے کی توہین کرنا نہیں تھا، بلکہ سیاسی واقعات پر طنز کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسے معاملات میں کارروائی ہوتی ہے، تو یہ صرف ایک فنکار کا معاملہ نہیں رہے گا، بلکہ یہ پورے معاشرے میں اظہار رائے کی آزادی کو متاثر کرے گا۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined