
جنتر منتر پر طلبہ کے احتجاج کی فائل تصویر / آئی اے این ایس
نئی دہلی: جنتر منتر پر طلبہ کے احتجاج کے خاتمے کے بعد حکومت کی جانب سے ایف آئی آر واپس لینے کی یقین دہانی پر ایک بار پھر بحث شروع ہو گئی ہے۔ طلبہ کی تحریک سے وابستہ سورو داس نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مظاہرین کے خلاف درج ایف آئی آر کی بنیاد پر کارروائی کی جا سکتی ہے، جبکہ حکومت سے طلبہ سے کیے گئے وعدے پورے کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
سورو داس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک تفصیلی بیان میں کہا کہ سپریم کورٹ کے عبوری حکم کے بعد انہیں یہ اندیشہ ہے کہ حکومت اور بعض ریاستی حکومتیں پہلے سے درج ایف آئی آر کو بنیاد بنا کر انفرادی مظاہرین کے خلاف کارروائی جاری رکھ سکتی ہیں۔ ان کے مطابق اس سے پرامن احتجاج میں شریک نوجوانوں کو قانونی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 25 جولائی کو حکومت نے طلبہ کو یقین دہانی کرائی تھی کہ احتجاج میں شریک افراد کے خلاف درج ایف آئی آر واپس لی جائیں گی اور کسی بھی مظاہر کو براہِ راست یا بالواسطہ نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔ ان کے مطابق اسی یقین دہانی پر اعتماد کرتے ہوئے طلبہ نے اپنا ملک گیر احتجاج ختم کیا تھا۔
سورو داس کا کہنا تھا کہ موجودہ قانونی صورتحال کے باوجود حکومت کے پاس اب بھی یہ اختیار موجود ہے کہ وہ ایف آئی آر واپس لے یا ان مقدمات پر مزید کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی کارروائی کو طلبہ سے کیے گئے وعدوں سے پیچھے ہٹنے کا جواز نہیں بنایا جانا چاہیے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت طلبہ سے کیے گئے تمام وعدوں پر مکمل عمل درآمد کرے اور اس سلسلے میں اپنی یقین دہانیوں کی تفصیلات سپریم کورٹ کے سامنے بھی پیش کرے تاکہ پورے معاملے میں شفافیت برقرار رہے اور نوجوانوں کے اعتماد کو ٹھیس نہ پہنچے۔ سورو داس نے کہا کہ حکومت کی جانب سے دی گئی یقین دہانیوں پر عمل درآمد کی مدت ختم ہو رہی ہے، اس لیے ایف آئی آر واپس لینے، پرامن مظاہرین کے خلاف مستقبل میں کسی قسم کی کارروائی نہ کرنے اور طلبہ سے کیے گئے تمام وعدے پورے کیے جائیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے اپنی یقین دہانیوں پر عمل نہ کیا تو طلبہ کی تحریک دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق نوجوان اپنے مستقبل کے تحفظ کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے اور حکومت کو اپنے عوامی وعدوں کی پاسداری کرنی چاہیے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔