
سپریم کورٹ نے گزشتہ ماہ ہونے والے طلبہ احتجاج کے دوران پولیس کی کارروائیوں کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس آر سبھاش ریڈی کی سربراہی میں ایک ہائی پاورڈ کمیٹی تشکیل دی ہے۔ اس کے دیگر اراکین میں پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس روی شنکر جھا، دہلی ہائی کورٹ کی سابق جج جسٹس شالندر کور، سی بی آئی کے سابق ڈائریکٹر رشی کمار شکلا اور میگھالیہ کے سابق ڈی جی پی ایل آر بشنوئی شامل ہیں۔
ہندی نیوز پورٹل ’ٹی وی9 بھارت ورش‘ پر شائع ایک رپورٹ کے مطابق ہائی پاورڈ کمیٹی مظاہرین کے خلاف مبینہ طور پر ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال، پیلیٹ گن کے استعمال، پولیس کارروائی کی جواب دہی، مظاہرین کی نگرانی، خواتین مظاہرین کے خلاف تشدد اور ہراسانی کے الزامات، متاثرین کو طبی امداد اور معاوضہ جیسے معاملات کی تحقیقات کرے گی۔ کمیٹی یہ بھی جائزہ لے گی کہ پُرامن احتجاج کے حق اور لا اینڈ آرڈر برقرار رکھنے کے درمیان مناسب توازن کس طرح قائم کیا جائے۔
کمیٹی پولیس کی زیادتیوں اور مظاہرین کے تشدد، دونوں کی تحقیقات کرے گی۔
کمیٹی خواتین مظاہرین کو ہراساں کرنے اور چھیڑ چھاڑ کے الزامات کو ترجیح دے گی۔
کمیٹی پولیس کی کارروائی کے نتیجے میں مظاہرین کو پہنچنے والی سنگین چوٹوں کی بھی تحقیقات کرے گی۔
احتجاج کے سی سی ٹی وی، ڈرون، باڈی کیم اور پی سی آر کال ریکارڈ کو محفوظ رکھنے کا انتظام کیا جائے۔
حراست میں لیے گئے نابالغوں کو رہا کیا جائے، سوائے ان کے جن پر سنگین اور گھناؤنے الزامات عائد ہیں۔
مظاہرین کے ذاتی ڈیٹا کے تحفظ کی ہدایت، اسے عوامی کرنے پر پابندی۔
کمیٹی کی تحقیقات کے نتائج سے الگ پولیس کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی ہو سکتی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ مظاہروں سے متعلق بڑے آئینی سوالات پر عدالت بعد میں الگ سے فیصلہ کرے گی۔ عدالت نے یہ حکم جنتر منتر اور بہار سمیت ملک کے دیگر حصوں میں نیٹ اور دیگر امتحانات کے پرچے لیک ہونے کے الزامات کے خلاف ہونے والے احتجاج سے متعلق عرضیوں پر دیا ہے۔ عرضی گزاروں نے پرامن احتجاج کی اجازت کو یقینی بنانے کے لیے پورے ملک میں نافذ ہونے والی گائیڈ لائنز کا مطالبہ کرتے ہوئے عدالت کا رخ کیا تھا۔ یہ عرضیاں دہلی کے جنتر منتر اور بہار میں مظاہرین پر پولیس کی جانب سے حال ہی میں طاقت کے استعمال کے بعد دائر کی گئی تھیں۔ کچھ عرضیوں میں احتجاج کے دوران پولیس اہلکاروں پر حملہ کرنے کے ملزم مظاہرین کے خلاف کارروائی کا بھی مطالبہ کیا گیا تھا۔ عدالت نے تحقیقاتی کمیٹی سے جلد از جلد تحقیقات مکمل کر کے عبوری رپورٹ پیش کرنے کو کہا ہے۔ معاملے کی آئندہ سماعت 10 ستمبر کو ہوگی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔