قومی خبریں

طلبہ مظاہرہ: راجیو چوک، منڈی ہاؤس اور آئی ٹی او سمیت دہلی میٹرو کے 16 اسٹیشن اگلے حکم تک بند

دہلی میٹرو ریل کارپوریشن (ڈی ایم آر سی) نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر پوسٹ جاری کرتے ہوئے مسافروں کو وقت رہتے اپنے سفر کی منصوبہ بندی کا مشورہ دیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>دہلی میٹرو / آئی اے این ایس</p></div>

دہلی میٹرو / آئی اے این ایس

 

دہلی میں جاری طلبہ مظاہرہ کے درمیان سیکورٹی ایجنسیوں کی سفارش کے بعد دہلی میٹرو ریل کارپوریشن (ڈی ایم آر سی) نے لوٹینس اور وسطی دہلی کے 16 اہم اور مصروف میٹرو اسٹیشنوں کو آئندہ حکم تک کے لیے مکمل طور سے بند کر دیا ہے۔ ڈی ایم آر سی نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر پوسٹ جاری کرتے ہوئے مسافروں کو وقت رہتے اپنے سفر کی منصوبہ بندی کا مشورہ دیا ہے۔ سیکورٹی کے پیش نظر بند کیے گئے 16 اہم میٹرو اسٹیشنوں کے نام درج ذیل ہیں:

  1. لوک کلیان مارگ

  2. راجیو چوک

  3. پٹیل چوک

  4. رام کرشن آشرم مارگ

  5. باراکھمبا روڈ

  6. سپریم کورٹ

  7. سیوا تیرتھ

  8. جنپتھ

  9. منڈی ہاؤس

  10. سنٹرل سیکرٹریٹ

  11. آئی ٹی او

  12. دہلی گیٹ

  13. اندرپرستھ

  14. خان مارکیٹ

  15. زور باغ

  16. شیواجی اسٹیڈیم

اس دوران جنتر منتر پر جاری طلبہ کے احتجاجی مظاہرے میں مراٹھا ریزرویشن کارکن منوج جرانگے بھی شامل ہو گئے ہیں۔ طلبہ کی تحریک کی مکمل حمایت کرتے ہوئے جرانگے نے کہا کہ وہ طلبہ کی جدوجہد کے ساتھ پوری مضبوطی سے کھڑے ہیں۔ پیر کے روز طلبہ پر ہونے والے لاٹھی چارج پر بھی جرانگے نے حکومت پر سخت حملہ بولا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’طلبہ پر جس غیر انسانی طریقے سے لاٹھی چارج کیا گیا، اس کی جتنی مذمت کی جائے اتنی کم ہے۔ اتنی بے رحم حکومت پہلی بار دیکھنے کو مل رہی ہے۔‘‘

دوسری جانب پارلیمنٹ مارچ کے دوران شدید طور پر زخمی ہونے والی 21 سالہ نوجوان لڑکی کا علاج نئی دہلی کے ڈاکٹر رام منوہر لوہیا (آر ایم ایل اے) اسپتال میں چل رہا ہے۔ شروع میں اس کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی تھی، حالانکہ آج اسپتال کی طرف سے معلومات فراہم کی گئی ہیں کہ ان کی حالت میں بہتری دیکھی گئی ہے۔ علاج شروع ہونے کے بعد سے ان کی حالت میں مسلسل بہتری آ رہی ہے اور علاج کرنے والی ٹیم کی سخت نگرانی میں اسے جامع طبی نگہداشت فراہم کی جا رہی ہے۔ وہ فی الحال آر ایم ایل اسپتال میں اس واقعے سے متعلق داخل واحد مریضہ ہے۔ اسے تمام ضروری علاج اور مسلسل نگرانی فراہم کی جا رہی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔