قومی خبریں

’سرکاری تیل کمپنیاں روزانہ 1000 کروڑ روپے کا نقصان برداشت کر رہیں‘، مرکزی وزیر ہردیپ پوری کا انکشاف

ہردیپ پوری نے کہا کہ ہندوستان ان چنندہ ممالک میں شامل ہے جنھوں نے توانائی کی قیمتیں نہیں بڑھائی ہیں اور دنیا کے کئی حصوں میں بحران کے باوجود شہریوں کو مستحکم فراہمی بنائے رکھی ہے۔

مرکزی وزیر ہردیپ پوری / ٹوئٹر
مرکزی وزیر ہردیپ پوری / ٹوئٹر 

وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کے روز ہندوستانی باشندوں سے پٹرول اور ڈویزل بچانے، ایک سال تک سونا نہیں خریدنے اور کورونا کے وقت جیسا احتیاط کرنے کی اپیل کی۔ حالانکہ پی ایم مودی کی اس اپیل کو کئی لوگوں نے محض ایک عام مشورہ تصور کیا ہے۔ اب مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کے ایک بیان نے لوگوں کے ذہن میں کئی طرح کے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

Published: undefined

ہردیپ پوری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنی پوسٹ میں بتایا کہ سرکاری تیل کمپنیاں ہر روز 1000 کروڑ روپے کا نقصان برداشت کر رہی ہیں۔ اس سہ ماہی میں تیل کمپنیوں کا مجموعی خسارہ ایک لاکھ کروڑ تک پہنچنے کا اندازہ ظاہر کیا ہے۔ ان اعداد و شمار کے سامنے آنے کے بعد ’کچھ بڑا ہونے‘ کی قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہیں۔

Published: undefined

مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم مودی نے شہریوں سے پٹرول اور ڈیزل کا استعمال کم کرنے، جہاں ممکن ہو پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال کرنے اور ممکنہ طور پر کار پولنگ کرنے کی اپیل کی ہے۔ اس طرح کی ترکیبوں سے ملک کو توانائی بچانے، بجلی بل میں بچت کرنے اور کئی انرجی پروڈیوسر ممالک کے درمیان چل رہے سنگین فوجی جنگ سے پیدا چیلنجز سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔

Published: undefined

ہردیپ پوری نے کہا کہ ہندوستان ان چنندہ ممالک میں شامل ہے جنھوں نے توانائی کی قیمتیں نہیں بڑھائی ہیں اور دنیا کے کئی حصوں میں بحران کے باوجود شہریوں کو مستحکم فراہمی بنائے رکھی ہے۔ ہمارا توانائی سیکٹر اس بحران کا سب سے زیادہ اثر برداشت کر رہا ہے۔ او ایم سی کمپنیاں خام تیل، گیس اور ایل پی جی کو زیادہ خرچ پر خرید رہی ہیں، لیکن صارفین کے لیے وہ آخری مصنوعات کو کم قیمت پر فروخت کر رہی ہیں، جس سے روزانہ 1000 کروڑ روپے تک کا شدید نقصان ہو رہا ہے۔ حالانکہ او ایم سی کمپنیوں نے بلارخنہ توانائی درآمدگی اور فراہمی یقینی کی ہے۔

Published: undefined

مرکزی وزیر کا کہنا ہے کہ روزانہ خوردہ اسٹیشنوں پر آنے والے 6 کروڑ سے زیادہ صارفین کی سیکورٹی یقینی بنائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ مودی حکومت نے خوردہ ایندھن پر ایکسائز ڈیوٹی گھٹایا اور ایک ماہ میں 14 ہزار کروڑ کا ریونیو خسارہ دیکھا۔ اس فیصلہ کے بعد بھی اس سہ ماہی میں او ایم سی کی ممکنہ وصولی بڑھ کر 2 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچنے کا اندازہ ہے، اور خسارہ تقریباً ایک لاکھ کروڑ روپے ہونے کا امکان ہے۔

Published: undefined