
ایس آئی آر (علامتی تصویر، اے آئی)
الیکشن کمیشن نے ووٹر لسٹ کی ’خصوصی گہری نظرثانی‘ (ایس آئی آر) پر جاری تنازعہ کے درمیان ایک نیا فیصلہ لیا ہے۔ اس فیصلہ کے تحت اس نے ووٹر لسٹ میں چھوٹ گئے اور پہلی بار ووٹ دینے والے ووٹرز کے ساتھ ساتھ نوجوان ووٹرز کے نام شامل کرنے کے لیے 20 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام خطوں میں خصوصی مہم چلانے کی ہدایت دی ہے۔ اس کے لیے کمیشن نے تمام چیف الیکٹورل افسران (سی ای اوز) کو ہدایت دیتے ہوئے خط بھیجا ہے۔
الیکشن کمیشن کے ذریعہ جاری ہدایات کے مطابق بوتھ لیول افسران (بی ایل او) سے کہا گیا ہے کہ وہ موجودہ ووٹر لسٹ کا ایس آئی آر سے پہلے کی ووٹر لسٹ سے موازنہ کریں۔ ان ووٹرز کی الگ فہرست تیار کی جائے گی، جن کے نام پہلے کی لسٹ میں موجود تھے۔ یعنی اب بی ایل اوز متعلقہ ووٹرز کے گھر گھر جا کر موجودہ صورت حال کی معلومات حاصل کریں گے۔ اہل پائے جانے پر ان کا نام شامل کرنے کے لیے فارم-6 پُر کرایا جائے گا۔ بی ایل او کو ہر ہفتہ کم از کم 20 سے 25 ووٹرز کا احاطہ کرنے اور تقریباً ایک ماہ میں مہم مکمل کرنے کا ہدف دیا گیا ہے۔
الیکشن کمیشن نے اپنے تازہ فیصلہ میں جو باتیں کہی ہیں، انھیں سمجھنے کے لیے ذیل میں دیے گئے 13 نکات کو دیکھیں...
چھوٹ گئے ووٹرز اور پہلی بار ووٹ دینے والوں کے ساتھ ساتھ نوجوان ووٹرز کو ووٹر لسٹ میں شامل کرنے کے لیے ایک خصوصی مہم چلائی جائے گی۔
ایس آئی آر کے عمل کے دوران بوتھ لیول افسران یعنی بی ایل او نے غیر حاضر، منتقل ہو چکے، فوت شدہ اور ڈپلی کیٹ ووٹرز کی فہرست تیار کی تھی۔ اس کے بعد ڈرافٹ ووٹر لسٹ جاری کی گئی اور دعووں اور اعتراضات پر فیصلہ لینے کے بعد حتمی ووٹر لسٹ شائع کی گئی۔ ایس آئی آر سے پہلے کی ووٹر لسٹ کے مقابلے میں حتمی اشاعت کے بعد کی ووٹر لسٹ میں گنتی کے مرحلے کے دوران حذف کیے گئے نام اور ڈرافٹ رول شائع ہونے کے بعد شامل اور حذف کیے گئے نام بھی شامل ہیں۔
ووٹرز کا اندراج ایک مسلسل جاری رہنے والا عمل ہے اور کوئی بھی شخص جس کا نام ابھی تک ووٹر لسٹ میں شامل نہیں ہوا ہے یا جس کا نام حذف کر دیا گیا ہے، وہ کسی بھی وقت اندراج کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔ اس خصوصی مہم کا مقصد ایسے ووٹرز کی شناخت کرنا اور انہیں سہولت فراہم کرنا ہے۔
بی ایل او موجودہ ووٹر لسٹ کا ایس آئی آر سے پہلے کی ووٹر لسٹ سے موازنہ کریں گے اور ایسے ووٹرز کی شناخت کریں گے جن کے نام ایس آئی آر سے پہلے کی لسٹ میں تو موجود تھے، لیکن موجودہ ووٹر لسٹ میں شامل نہیں ہیں۔ ایسے ووٹرز کی ایک الگ فہرست تیار کی جائے گی۔
بی ایل او ایسے شناخت کیے گئے ووٹرز کے گھر گھر جا کر ان کی موجودہ صورت حال کا پتہ لگائیں گے اور جہاں بھی کوئی شخص اہل پایا جائے گا، وہاں فارم-6 کے ذریعے اس کا نام درج کیا جائے گا۔ بی ایل او ایک ہفتے میں کم از کم 20 سے 25 ووٹرز سے رابطہ کر سکتے ہیں، تاکہ یہ کام تقریباً ایک ماہ میں مکمل ہو سکے۔ وہ اپنی تیار کردہ فہرست میں ہر ایسے ووٹر کی موجودہ صورت حال بھی درج کریں گے۔ جن ووٹرز کے لیے فارم-6 پُر کیا گیا ہے، ان کے نام بھی فہرست میں دکھائے جائیں گے۔
بی ایل او گھر گھر جا کر اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ جو ووٹر چھوٹ گئے ہیں، پہلی بار ووٹ دینے والے ہیں یا نوجوان ووٹر ہیں، ان کے لیے فارم-6 پُر کیا جائے۔
بی ایل او اس فہرست کو تسلیم شدہ سیاسی پارٹیوں کے بی ایل اے کے ساتھ شیئر کریں گے۔
بی ایل او، ای آر او کے ساتھ پُر کیے گئے فارم-6 اور اپنی فیلڈ ویری فکیشن رپورٹ والی فہرست شیئر کریں گے۔ ’عوامی نمائندگی ایکٹ، 1950‘ اور ’ووٹر رجسٹریشن رولز، 1960‘ کی دفعات کے مطابق، ان معاملات پر مناسب کارروائی کرنے کے لیے ای آر او مجاز افسر ہیں۔
اس عمل کے آخر میں تیار کی گئی بوتھ وار فہرست ای آر او سیاسی جماعتوں کے ساتھ بھی شیئر کریں گے تاکہ انہیں چھوٹ گئے ووٹرز کے نام درج کرانے کا ایک اور موقع مل سکے۔
ووٹر لسٹ میں نام درج کرانے کے لیے درخواست جمع کرنے میں آسانی کے لیے بوتھ لیول کیمپ لگائے جائیں گے۔ نائٹ شیلٹر اور لیبر کالونیوں میں رہنے والے لوگوں کے ساتھ ساتھ بے گھر اور حاشیے پر رہنے والے لوگوں کے نام درج کرنے کے لیے بھی خصوصی کیمپ لگائے جا سکتے ہیں۔
چیف الیکٹورل افسر، ڈسٹرکٹ الیکٹورل افسر اور ای آر او تعلیمی اداروں، مقامی سطح پر رابطہ پروگراموں، ایس وی ای ای پی سرگرمیوں اور پریس بریفنگ کے ذریعے اہل شہریوں کو ووٹر لسٹ میں نام درج کرانے کے مواقع کے بارے میں معلومات فراہم کریں گے۔ مہم کی باقاعدہ نگرانی سی ای او، ڈی ای او اور ای آر او کی سطح پر کی جائے گی۔
اس مہم کی پیش رفت اور باقاعدہ جائزے کی نگرانی سی ای او، ڈی ای او اور ای آر او کی سطح پر باریک بینی سے کی جائے گی۔
سی ای او کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ہدایات کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے کے لیے تمام متعلقہ ڈی ای او، ای آر او اور بی ایل او کو ضروری ہدایات جاری کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ یہ خصوصی مہم تمام اہل شہریوں تک پہنچے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔