
آئی اے این ایس
گواہاٹی/اگرتلہ: جنوب مغربی مانسون نے اتوار کو شمال مشرقی ہندوستان کے بڑے حصے میں دستک دے دی، جس کے بعد خطے میں وسیع پیمانے پر بارش کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ اگرچہ اس سال مانسون کی آمد اپنی معمول کی تاریخ کے مقابلے میں دو دن تاخیر سے ہوئی ہے، تاہم محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ آئندہ چند دنوں میں اس کی رفتار تیز ہونے اور پورے خطے کو اپنی گرفت میں لینے کے امکانات روشن ہیں۔
Published: undefined
محکمہ موسمیات کے علاقائی مراکز کے حکام کے مطابق جنوب مغربی مانسون اتوار کے روز تریپورہ، میزورم، ناگالینڈ، منی پور اور آسام و اروناچل پردیش کے بعض علاقوں تک پہنچ گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ موسمی حالات مانسون کی مزید پیش قدمی کے لیے سازگار ہیں، جس کے باعث اگلے دو سے تین دن کے اندر شمال مشرقی ہندوستان کی تمام ریاستیں مانسون کی زد میں آ سکتی ہیں۔
اگر تلہ میں محکمہ موسمیات کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ گزشتہ برس جنوب مغربی مانسون 26 مئی کو ہی شمال مشرقی خطے کے بیشتر علاقوں میں پہنچ گیا تھا، جبکہ اس سال اس کی آمد نسبتاً تاخیر سے ہوئی ہے۔ اس کے باوجود محکمہ موسمیات کو امید ہے کہ آنے والے دنوں میں بارش کی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
Published: undefined
محکمہ موسمیات کے مطابق شمال مشرقی خطے کے علاوہ انڈمان و نکوبار جزائر، کرناٹک، کونکن و گوا، لکشدیپ، مہاراشٹر، ذیلی ہمالیائی مغربی بنگال، سکم، تمل ناڈو اور پڈوچیری کے مختلف علاقوں میں بھی آئندہ چند دنوں کے دوران بارش ہونے کی توقع ہے۔
محکمہ نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ شمال مشرقی ریاستوں کے باقی حصوں کے ساتھ ساتھ ذیلی ہمالیائی مغربی بنگال اور سکم کے بعض علاقوں میں بھی مانسون کی مزید پیش رفت کے لیے اگلے تین سے چار دن تک حالات موافق رہیں گے۔ اسی وجہ سے بارش کا دائرہ مزید وسیع ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
Published: undefined
ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس سال ملک کے بعض حصوں میں مضبوط ایل نینو کی صورتحال کے امکانات ظاہر کیے گئے ہیں، تاہم اس موسمی مظہر کے شمال مشرقی ہندوستان پر نمایاں منفی اثرات مرتب ہونے کی توقع کم ہے۔ ان کے مطابق خطے کے وسیع جنگلات، متنوع جغرافیائی ساخت اور نسبتاً سازگار موسمی حالات اس کے اثرات کو محدود رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
محکمہ موسمیات کے عہدیداروں نے امید ظاہر کی ہے کہ رواں مانسون سیزن کے دوران شمال مشرقی ہندوستان میں بارش معمول سے زیادہ ہو سکتی ہے، جس سے زرعی سرگرمیوں، آبی ذخائر اور مجموعی آبی وسائل کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔ تاہم بعض علاقوں میں شدید بارش کے باعث مقامی سطح پر سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ جیسے خطرات پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined