قومی خبریں

ایس آئی آر تنازعہ: پریانک کھڑگے کی فارم-7 کے غلط استعمال پر قانونی کارروائی کی وارننگ

کرناٹک کے وزیر داخلہ پریانک کھڑگے نے ووٹر فہرست سے اہل ووٹروں کے نام ہٹانے کے لیے فارم-7 کے غلط استعمال پر قانونی کارروائی کی وارننگ دی اور بی جے پی پر سوال اٹھائے

<div class="paragraphs"><p>پریانک کھڑگے</p></div>

پریانک کھڑگے

 

بنگلورو: کرناٹک میں خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے معاملے پر سیاسی کشیدگی کے درمیان ریاست کے وزیر داخلہ پریانک کھڑگے نے ووٹر فہرست سے اہل ووٹروں کے نام ہٹانے کے لیے فارم-7 کے غلط استعمال پر قانونی کارروائی کی وارننگ دی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ بڑی تعداد میں پہلے سے پُر کیے گئے فارم-7 کیسے حاصل کیے جا رہے ہیں اور جمع کرائے جا رہے ہیں۔

بنگلورو میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے پریانک کھڑگے نے کہا کہ اگر فارم-7 کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے، بڑی تعداد میں پہلے سے پُر فارم دستیاب ہیں اور زندہ لوگوں کو مردہ یا علاقے میں رہنے والے لوگوں کو غیر رہائشی قرار دیا جا رہا ہے تو اس پر کارروائی ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جو لوگ انتخابی قوانین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، انہیں یہ توقع نہیں رکھنی چاہیے کہ ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔ کھڑگے نے کہا، ’’اگر آپ قانون کی پابندی نہیں کر رہے ہیں تو میں آپ کو سکھاؤں گا کہ قانون کی پابندی کیسے کی جاتی ہے۔‘‘

کرناٹک کے وزیر داخلہ نے کہا کہ یہ معاملہ کرناٹک کا ہے اور آئینی و انتخابی ضابطوں کی خلاف ورزی کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا، ’’یہ گجرات نہیں ہے، یہ دہلی نہیں ہے، یہ اتر پردیش نہیں ہے بلکہ یہ کرناٹک ہے۔ اگر آپ آئین کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو آپ کو نتائج بھگتنا ہوں گے۔‘‘

بی جے پی کے سابق ارکان اسمبلی، امیدواروں، بوتھ لیول افسران (بی ایل او) اور دیگر کارکنوں کے خلاف کارروائی سے متعلق سوال پر کھڑگے نے کہا کہ عوام کو پریشان کیے جانے کی شکایات کے بعد مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ ووٹروں کے نام، پتے اور دیگر تفصیلات درج ہزاروں پہلے سے پُر فارم-7 کہاں سے آئے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ بعض معاملات میں زندہ افراد کو مردہ اور مقامی رہائشیوں کو غیر رہائشی ظاہر کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگوں نے بعد میں متعلقہ حکام، جن میں چکمگلور، بیدر اور بھونیشور کے تحصیلدار بھی شامل ہیں، سے رابطہ کرکے فارم-7 کی درخواستیں واپس لینے کی کوشش کی۔

کھڑگے نے ایس آئی آر پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ اگر کچھ لوگ خود الیکشن کمیشن کا کام کر رہے ہیں تو پھر ایس آئی آر کی ضرورت کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ’اسپیشل انٹینسیو ریویژن‘ کے بجائے ’سنگھ انٹینسیو ریویژن‘ بنتا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ فارم-7 کے ذریعے مسلمانوں، عیسائیوں اور دلتوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے اور بی جے پی سے اس کا جواب مانگا۔

کھڑگے نے کہا کہ حکومت کو متعدد شکایات موصول ہوئی ہیں اور ریٹرننگ افسر و چیف الیکٹورل آفیسر ان معاملات کی جانچ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ افراد کو وضاحت کرنی چاہیے کہ انہیں پہلے سے پُر فارم کیسے ملے اور بعض افراد کو زندہ ہونے کے باوجود مردہ کیوں قرار دیا گیا۔

الیکشن کمیشن سے متعلق نیشنل کانفرنس کے رہنما فاروق عبداللہ کے بیان پر کھڑگے نے کہا کہ الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ موجودہ چیف الیکشن کمشنر نے ’’اپنی روح بی جے پی کو بیچ دی ہے‘‘۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔