قومی خبریں

ایس آئی آر معاملہ: ’شہریت طے کرنا الیکشن کمیشن کے اختیار میں نہیں‘، سپریم کورٹ نے پھر کیا واضح

سپریم کورٹ اس عرضی پر سماعت کے لیے راضی ہے، جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ ووٹر فہرست سے نام ہٹائے گئے لوگوں کو پی ڈی ایس، انپورنا یوجنا اور دیگر سرکاری اسکیموں کے فوائد سے محروم کیا جا رہا ہے۔

الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ
الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ 

سپریم کورٹ نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ شہریت کا تعین کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار نہیں ہے۔ مغربی بنگال کے ایس آئی آر تنازعہ پر جمعہ کو سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے یہ تبصرہ کیا۔ عدالت نے کہا کہ کمیشن کا اختیار صرف ووٹر فہرست کے کنٹرول اور نگرانی تک محدود ہے۔ اس لیے قانونی صورت حال میں کوئی ابہام نہیں ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ اگر کوئی ٹریبونل کسی شخص کا نام ایس آئی آر فہرست میں شامل نہ کرنے کا فیصلہ سناتا ہے تو الیکشن کمیشن کو شہریت کے تعین کے لیے معاملہ متعلقہ وزارت کو بھیجنا ہوگا۔ ووٹر فہرست میں نام نہ ہونے سے شہریت خود بخود ختم نہیں ہوتی۔

غور کرنے والی بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے اس عرضی پر سماعت کرنے پر رضامندی ظاہر کی، جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ ووٹر فہرست سے نام ہٹائے گئے لوگوں کو پی ڈی ایس، انپورنا یوجنا اور دیگر سرکاری اسکیموں کے فوائد سے محروم کیا جا رہا ہے۔ اس معاملے کی اگلی سماعت 25 اگست کو ہوگی۔

آج عدالت میں سماعت کے دوران جسٹس باگچی نے کہا کہ شہریت کا تعین کرنا الیکشن کمیشن کا آئینی اختیار نہیں ہے۔ کمیشن کا اختیار صرف ووٹر فہرست کے کنٹرول اور نگرانی تک محدود ہے، اس لیے قانونی صورت حال میں کوئی ابہام نہیں ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا کی بنچ کے سامنے عرضی گزار کی جانب سے سینئر وکیل گوپال شنکرنارائن نے دلائل پیش کیے۔ انہوں نے کہا کہ 19 اپیلیٹ ٹریبونلز کے کام کرنے کے طریقے سے عملی سطح پر عدم مطابقت اور تاخیر پیدا ہو رہی ہے۔ وکیل نے یہ بھی کہا کہ ٹریبونلز کے کام کاج میں رکاوٹیں ہیں اور اس سے معاملات کے نمٹارے پر اثر پڑ رہا ہے۔

اس سے قبل بدھ کو سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے بعد جن لوگوں کے نام ووٹر فہرست سے ہٹا دیے گئے تھے، وہ اب بھی کچھ فلاحی فوائد، جیسے سبسیڈی والا راشن حاصل کرنے کے حقدار ہوں گے۔ تاہم، عدالت نے عرضی گزار کا راشن کارڈ معطل کیے جانے کو چیلنج کرنے والی عرضی پر سماعت کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ معطلی مغربی بنگال کے محکمۂ خوراک و رسد کی جانب سے جون میں جاری کیے گئے ایک حکم کے بعد کی گئی تھی۔ عدالت نے انہیں راحت کے لیے کلکتہ ہائی کورٹ جانے کی ہدایت دی۔

سپریم کورٹ نے اس سے پہلے مئی میں بھی الیکشن کمیشن کو راحت دی تھی۔ عدالت نے کمیشن کی جانب سے ایس آئی آر کرانے کے اختیار کو درست قرار دیا تھا۔ عدالت نے مانا تھا کہ بہار میں ووٹر فہرست کی ایس آئی آر کا حکم دے کر کمیشن نے ’ریپریزنٹیشن آف پیپل ایکٹ‘ کی خلاف ورزی نہیں کی۔ سپریم کورٹ کی 3 ججوں کی بنچ نے کئی ریاستوں میں ووٹر فہرست کی ایس آئی آر کارروائی کی آئینی حیثیت کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر اپنا فیصلہ سنایا تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔