
سی ای او دہلی پریس کانفرنس کرتے ہوئے، تصویر @CeodelhiOffice
قومی راجدھانی دہلی میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظر ثانی (ایس آئی آر) کا عمل آج (منگل) سے شروع ہو رہا ہے۔ اس کے تحت 13,033 بوتھ لیول آفیسر بی ایل او گھر گھر جا کر ووٹروں کی تصدیق کریں گے۔ یہ مہم 29 جولائی تک جاری رہے گی۔ دہلی کے چیف الیکٹورل آفیسر (سی ای او) اشوک کمار نے بتایا کہ اس وقت دہلی میں 1.45 کروڑ ووٹرز ہیں۔ ان میں 77.11 لاکھ مرد، 67.98 لاکھ خواتین اور 1,024 تیسری صنف کے ووٹر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 76,155 معذور ووٹرز رجسٹرڈ ہیں۔ وہیں 18 سے 19 سال عمر کے 3 لاکھ 29 ہزار 130 نوجوان ووٹرز ہیں جبکہ 100 سال سے زیادہ عمر کے 192 ووٹرز فہرست میں درج ہیں۔
Published: undefined
سی ای او نے بتایا کہ خصوصی نظرثانی کے دوران ہر ووٹر کو گنتی فارم (انیومریشن فارم) کی دو کاپیاں دی جائیں گی۔ ووٹر ایک کاپی بطور رسید اپنے پاس رکھیں گے، جبکہ دوسری کو پُر کر کے بی ایل او کو واپس کرنی ہوگی۔ ووٹر اگر چاہیں تو یہ تفصیلات آن لائن بھی جمع کر سکتے ہیں۔ سی ای او نے کہا کہ اگر کوئی گھر مقفل پایا جاتا ہے تو متعلقہ بی ایل او کم از کم 3 بار جائے گا تاکہ کوئی اہل ووٹر چھوٹ نہ جائے۔ ڈور ٹو ڈور سروے 29 جولائی تک مکمل کر لیا جائے گا۔
Published: undefined
اشوک کمار نے کہا کہ حالیہ تجاوزات مخالف کارروائی کے دوران جن لوگوں کے مکان گرائے گئے ہیں، ان کے ووٹر رجسٹریشن سے متعلق معاملوں کو الیکشن کمیشن کے سامنے اٹھایا جائے گا۔ دہلی میں 7 لوک سبھا اور 70 اسمبلی حلقوں کے لیے کل 13,033 پولنگ بوتھ ہیں۔ خصوصی نظر ثانی کے بعد مسودہ ووٹر لسٹ 5 اگست کو شائع کی جائے گی۔ ووٹر اور سیاسی جماعتیں 5 اگست سے 4 ستمبر تک دعوے اور اعتراضات جمع کرا سکیں گی۔ ان کا تصفیہ 3 اکتوبر تک کیا جائے گا اور حتمی ووٹر لسٹ 7 اکتوبر کو شائع کی جائے گی۔
Published: undefined
ایس آئی آر شیڈول کے مطابق 30 جون کو گھر گھر تصدیقی مہم کا آغاز ہو رہا ہے جبکہ 29 جولائی کو سروے مکمل کیا جائے گا۔ اسی طرح 5 اگست کو ووٹر لسٹ کا مسودہ شائع کیا جائے گا اور 5 اگست سے 4 ستمبر کے درمیان دعوے اور اعتراضات داخل کئے جا سکیں گے۔ وہیں 3 اکتوبر کو دعوے اور اعتراضات کو حل کیا جائے گا اور اس کے بعد 7 اکتوبر کو حتمی ووٹر لسٹ شائع کی جائے گی۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined