
تصویر آئی اے این ایس
گوہاٹی: آسام کے معروف گلوکار زوبین گرگ کی موت کے معاملہ میں ملزم گلوکارہ امرت پروا مہنتا بدھ کو گوہاٹی کی فاسٹ ٹریک عدالت میں پیش ہوئیں۔ گوہاٹی ہائی کورٹ سے ضمانت ملنے کے بعد انہیں منگل کو ہافلانگ سب جیل سے رہا کیا گیا تھا۔ رہائی کے بعد عدالت میں حاضری ان کی ضمانت کی شرائط میں شامل تھی۔
گوہاٹی ہائی کورٹ نے 9 اکتوبر کو مہنت کی ضمانت منظور کی تھی۔ اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر ضیاءالحق قمر کے مطابق جسٹس پرانجل داس نے انہیں 50 ہزار روپے کے ذاتی مچلکہ اور اتنی ہی رقم کے دو ضمانتی مچلکوں پر رہا کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے درخواست پر کئی روز تک دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔
زوبین گرگ کی موت کے مقدمے میں مہنت ضمانت پانے والی پہلی ملزم ہیں۔ وہ اس مقدمے کے ایک اور ملزم اور گرگ کے سابق بینڈ ساتھی شیکھر جیوتی گوسوامی کے ساتھ ہافلانگ سب جیل میں قید تھیں۔ گرگ 19 ستمبر 2025 کو سنگاپور میں لزارس جزیرے کے قریب سمندر میں تیراکی کے دوران ہلاک ہوئے تھے۔ وہ نارتھ ایسٹ انڈیا فیسٹیول میں شرکت اور پرفارم کرنے کے لیے سنگاپور گئے تھے۔ رپورٹس کے مطابق وہ اس وقت نشے کی حالت میں تھے۔ ان کی موت کے بعد آسام میں غم و غصے کی فضا پیدا ہوئی اور واقعے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ زور پکڑ گیا۔
سنگاپور کے اسٹیٹ کورونر نے 25 مارچ کو گرگ کی موت کو حادثاتی طور پر ڈوبنے کا واقعہ قرار دیا تھا۔ تحقیقات میں سازش یا انہیں زبردستی پانی میں دھکیلنے کا ثبوت نہیں ملا۔ تاہم آسام میں عوامی مطالبات اور ریاست میں 60 سے زیادہ ایف آئی آر درج ہونے کے بعد حکومت نے پولیس کے کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کے تحت خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) قائم کی۔
ایس آئی ٹی نے تحقیقات کے سلسلے میں سنگاپور کا دورہ کیا اور متعدد گواہوں سے پوچھ گچھ کی۔ دسمبر 2025 میں گوہاٹی کی عدالت میں دائر چارج شیٹ میں سات افراد کو ملزم نامزد کیا گیا، جن میں سے چار پر قتل کا الزام عائد کیا گیا۔ یہ استغاثہ کے الزامات ہیں اور ان پر حتمی فیصلہ عدالت کرے گی۔
ملزمان میں فیسٹیول کے منتظم شیامکانو مہنت، گرگ کے منیجر سدھارتھ شرما، سابق بینڈ ساتھی شیکھر جیوتی گوسوامی، امرت پروا مہنتا، گرگ کے رشتہ دار سندیپن گرگ اور ان کے دو ذاتی سکیورٹی اہلکار نندیشور بورا اور پروین بائشیہ شامل ہیں۔
ایس آئی ٹی نے شیامکانو، سدھارتھ، شیکھر اور امرت پروا مہنتا پر قتل کے الزامات لگائے۔ سندیپن پر غیر ارادی قتل، جبکہ بورا اور بائشیہ پر مبینہ غفلت اور سکیورٹی ذمہ داریوں سے متعلق الزامات ہیں۔ اس سال مئی میں اسپیشل فاسٹ ٹریک عدالت نے ساتوں ملزمان پر فردِ جرم عائد کی تھی۔ سب نے خود کو بے قصور بتایا۔ مقدمے کی کارروائی جاری ہے اور آسام میں گرگ کے مداح اور شہری اس پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔