مشن ایکسیوم 4 کا عملہ / بشکریہ ایکس / @NASA
نئی دہلی: ہندوستانی خلائی مشن کے حوالے سے ایک اہم خبر سامنے آئی ہے۔ شبھانشو شکلا کا خلائی سفر اب 19 جون کو طے پایا ہے، کیونکہ فالکن 9 راکٹ میں پائے گئے لیک کے مسئلہ مکمل طور پر درست کر لیا گیا ہے۔ اسرو، ایکسیوم اور اسپیس ایکس کے ماہرین کی مشترکہ میٹنگ میں یہ فیصلہ ہوا، جس میں تکنیکی خرابی کے حل کی تصدیق کے بعد نئی تاریخ کا اعلان کیا گیا۔
واضح رہے کہ 10 جون کو اے ایکس-04 مشن کا آغاز طے تھا لیکن فالکن 9 راکٹ کے بوسٹر میں لیکویڈ آکسیجن کا رِساؤ سامنے آیا، جس کے بعد مشن کو مؤخر کر دیا گیا۔ یہ رساؤ راکٹ کے اس حصے میں پایا گیا جو پرواز کے دوران ایندھن کی فراہمی کا بنیادی ذریعہ ہوتا ہے۔ اسرو کے انجینئرز اور اسپیس ایکس اور ایکسیوم کے ماہرین نے مل کر اس مسئلے پر کام کیا اور اس کی مرمت مکمل کی۔
Published: undefined
اسرو کے چیئرمین نے اس کامیابی کو سراہتے ہوئے کہا کہ انسانی زندگی اور مشن کی حفاظت سب سے مقدم ہے، اسی لیے مسئلے کے مکمل حل تک لانچ مؤخر رکھا گیا۔ اب مشن کے تمام سسٹمز دوبارہ چیک کیے گئے ہیں اور بوسٹر مکمل طور پر محفوظ قرار پایا ہے۔
دوسری طرف ایکسیوم اسپیس نے ناسا کے تعاون سے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) میں واقع زویڈا سروس ماڈیول میں دباؤ کے غیر معمولی مسئلے کی بھی تحقیقات شروع کی ہیں۔ یہ ماڈیول روس کا تیار کردہ ہے اور حال ہی میں اس کی مرمت ہوئی تھی۔ ایکسیوم نے واضح کیا ہے کہ کوئی بڑا خطرہ لاحق نہیں، تاہم احتیاطی تدابیر کے طور پر مکمل جانچ کی جا رہی ہے۔
Published: undefined
اب اے ایکس-04 مشن کی نئی تاریخ 19 جون 2025 مقرر کی گئی ہے۔ یہ مشن شبھانشو شکلا سمیت چار خلا بازوں کو بین الاقوامی خلائی اسٹیشن تک لے جائے گا۔ لانچ امریکی ریاست فلوریڈا میں واقع کینیڈی اسپیس سینٹر سے عمل میں آئے گا، جہاں فالکن 9 راکٹ اور ڈریگن کیپسول استعمال کیا جائے گا۔
شبھانشو شکلا اس مشن کے ذریعے خلاء میں جانے والے پہلے ہندوستانی خلاباز ہوں گے۔ وہ آئی ایس ایس پر 7 سائنسی تجربات انجام دیں گے، جن میں انسانی جسم پر خلاء کے اثرات، حیاتیاتی نظام کا تجزیہ اور مائیکرو گریوٹی میں مختلف مٹیریل کے ردعمل جیسے موضوعات شامل ہیں۔
Published: undefined
یاد رہے کہ یہ مشن پہلے خراب موسم اور بعد میں راکٹ لیک کے باعث دو مرتبہ ملتوی ہوا لیکن اب تمام رکاوٹیں دور ہونے کے بعد مشن کو منظوری مل چکی ہے۔ اسپیس ایکس کا کہنا ہے کہ وہ رینج کی دستیابی کے بعد حتمی تصدیق کرے گا، جبکہ اسرو کی تکنیکی معاونت نے اس مشن کو بین الاقوامی تعاون کی ایک کامیاب مثال بنا دیا ہے۔ یہ مشن نہ صرف شبھانشو کے لیے بلکہ ہندوستان کے لیے ایک فخر کا لمحہ ہوگا۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined