
آئی اے این ایس
ہریانہ کے فرید آباد کی ڈبوا کالونی میں ایک چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے جہاں 32 سال کی کویتا کو کبھی یہ احساس تک نہیں ہوا کہ 12 سال کی عمر سے وہ جسم کے اندر ایس ایل آر کی گولی لے کر گھوم رہی ہے۔ خبر کے مطابق دو مہینے پہلے کویتا کو اپنی ران میں ایک پھوڑا بڑھتا ہوا محسوس ہوا۔ شروع میں گھریلو علاج سے کوئی فائدہ نہیں ہوا لیکن جب پھوڑا پھوٹ گیا تو اس میں سے ایک گولی باہرنکلی۔ اس واقعے سے پورا خاندان حیران رہ گیا، کیونکہ یہ گولی ایس ایل آر رائفل کی تھی اور ڈاکٹروں نے بھی اس کی شناخت بھی کی ہے۔
Published: undefined
پوچھے جانے پر کویتا نے بتایا کہ جب وہ 12 سال کی تھی تو آرمی کیمپ کے قریب اسکول کے میدان میں امتحان کا پیپر دینے کے دوران اس کے جسم کے نچلے حصے میں کو نُکیلی چیز آکر لگی تھی۔ اس وقت وہ سمجھ نہیں پائی کہ یہ گولی ہوسکتی ہے۔ ٹیچر نے اسے معمولی چوٹ کہہ کر اسے گھر بھیج دیا تھا۔ اس وقت اہل خٓانہ نے گھر پر ہی زخم پر تیل اور ہلدی کا پیسٹ لگایا تھا۔ کچھ وقت بعد زخم ٹھیک ہو گیا تھا۔ 20 سال تک انہیں کبھی کوئی پریشانی نہیں ہوئی۔
Published: undefined
اس معاملے میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ گولی جسم کے اندر رہ سکتی ہے، خاص طور پر جب اس کی رفتار کم ہوتی ہے۔ گولی کے آس پاس خلیے ایک دیوار کی طرح بن جاتے ہیں، جو اسے جسم کے باقی حصے کو نقصان نہیں پہنچانے دیتے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ دیوار ٹوٹ سکتی ہے، جس سے گولی باہر آسکتی ہے، جیسا کہ کویتا کے معاملے میں ہوا ہے۔
Published: undefined
کویتا کے شوہر پردیپ نے کہا کہ حیرت کی بات ہے کہ اتنے سالوں بعد گولی نکلی۔ اس سے پہلے نہ کبھی درد ہوا تھا اور نہ ہی اس کا پتہ چلا۔ گولی بغیر کسی آپریشن کے خود ہی باہر آ گئی۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ کویتا اب بالکل ٹھیک ہے۔ کویتا نے کہا کہ اب وہ گولی کو سنبھال کر رکھیں گی، کیونکہ لوگ اسے دیکھنے کے لیے ان کے پاس آ رہے ہیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined