
نئی دہلی: مہاراشٹر میں شیوسینا اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے درمیان جاری سیاسی تعطل کے درمیان شیوسینا لیڈر سنجے راؤت نے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کی نظم کے اشعار کا حوالہ دیتے ہوئے جمعہ کے روز ایک بار پھر بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنایا ۔سنجے راؤت نے سابق وزیر اعظم واجپئی کی نظم ’ اگنی پریکشا ‘كا حوالہ دیتے ہوئے اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر لکھا ہے کہ ’’آئیے ہم ارجن کی طرح دو پر تیگیا لیتے ہیں، دینتا سویکار نہ کریں اور چنوتیوں سے کبھی بھاگے نہیں‘‘۔
Published: undefined
شیو سینا لیڈر راؤت نے اس سے قبل جمعرات کو نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ مہاراشٹر میں صدر راج کی صورتحال پیدا کی جا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور شیو سینا کے درمیان لوک سبھا انتخابات کے دوران جو رضامندی بنی تھی اس کے مطابق ہی ہم 50:50 فارمولہ کے تحت ڈھائی سال کا شیو سینا کا وزیر اعلی بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
Published: undefined
سنجے راؤت نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ریاست کے عوام نے بی جے پی- شیوسینا اتحاد کو حکومت بنانے کے لئے مینڈیٹ دیا ہے تو پھر بی جے پی سب سے بڑی پارٹی ہونے کی وجہ سے گورنر کے پاس حکومت بنانے کا دعوی کیوں نہیں پیش کر رہی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی خود بھی حکومت نہیں بنانا چاہتی اور نہ ہی دوسرے کو حکومت بنانے دے رہی ہے ۔ بی جے پی کے پاس اکثریت نہیں ہے اس لئے وہ حکومت نہیں بنا پا رہی ہے ۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شیو سینا کو دھمکی یا بلیک میل نہیں کیا جا سکتا ۔ جن لوگوں کے پاس اقتدار ہوتا ہے وہی ’سام، دام، دنڈ اور وید‘ کا استعمال کرتے ہیں ۔
Published: undefined
سنجے راؤت نے اس کے علاوہ یہ بھی کہا کہ لوگ چاہتے ہیں کہ وزیر اعلی شیو سینا کا ہو ۔ انہوں نے کہا کہ آج سبھی رکن اسمبلی کی میٹنگ ہوئی تھی اور سبھی نے متفقہ طور سے کہا کہ پارٹی صدر ادھو ٹھاکرے حکومت سازی کے تعلق سے جو فیصلہ لیں گے ، وہ ہم سب کو منظور ہو گا ۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کے نتائج آنے کے بعد سے شیو سینا اپنی بات پر بضد ہے کہ ڈھائی ڈھائی سال کے لئے دونوں پارٹیوں کو وزیر اعلی بنانے کا موقع ملنا چاہئے ۔ سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے ریاست کا نقصان ہو رہا ہے ۔ ہم لوگ شروع سے کہہ رہے ہیں کہ ہم اتحاد توڑنے کا گناہ نہیں کریں گے ۔
Published: undefined
واضح رہے کہ مہاراشٹر اسمبلی انتخابات کے نتائج 24 اکتوبر کو آئے جس میں بی جے پی کو 105 اور شیوسینا کو 56 سیٹیں ملی ہیں ۔ مہاراشٹر اسمبلی کی مدت کار ہفتہ کو ختم ہو رہی ہے اور اگر کوئی پارٹی یا پارٹیوں کا اتحاد حکومت بنانے کے لئے آگے نہیں آتی ہے تو ریاست میں صدر راج بھی نافذ کیا جا سکتا ہے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined