
مغربی اتر پردیش کے شاملی ضلع میں شہر سے 5 کلو میٹر دو ٹپرانا نامی گاؤں واقع ہے، اس گاؤں کی دوری کیرانہ سے 8 کلو میٹر اور جھنجھانہ سے 2 کلومیٹر ہے۔ گاؤں کی آبادی پانچ ہزار ہے اور آبادی کا 85 فیصد حصہ مسلم ہے اور اس کی 90 فیصد آبادی پٹھان برادری سے تعلق رکھتی ہے۔ پولیس، مقامی لوگ اور صحافیوں پر یقین کریں تو ٹپرانا برسوں سے ایک دبنگ گاؤں ہے اور گزشتہ کچھ دنوں سے یہاں سے سٹہ اور جوا کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔ پولیس کے مطابق یہاں سے اکثر گئو کشی کی شکائتیں موصول ہوتی رہتی ہیں۔ جھنجھانہ تھانہ میں موجود اس گاؤں پولیس بھی بغیر فورس کے گھسنے کی ہمت نہیں کر پاتی۔
Published: undefined
گزشتہ 26 مئی کو پولیس مع فورس ٹپرانا گاؤں پہنچی اور گئوکشوں کے خلاف چلائی جانے والی مہم کے تحت ایک شخص افضل کو گرفتار کرنے کی کوشش کی۔ افضل کئی مرتبہ گئو کشی کے معاملے میں جیل جا چکا ہے اور پولیس اسے ضلع بدر بھی کر دیا تھا۔ قانون کے مطابق جس شخص کو ضلع بدر کر دیا جاتا ہے وہ ایک سال تک ضلع کی سرحد میں داخل نہیں ہو سکتا اور اگر وہ ایسا کرنے کی کوشش کرتا ہے تو سے گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ گاؤں میں پہنچی 2 داروغہ اور 3 سپاہیوں کی ٹیم جب افضل کو گرفتار کرنے پہنچی تو اسے سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ پولیس کا الزام ہے کہ پولیس کی گاڑی پر پتھراؤ کیا گیا اور اہلکاروں کے ساتھ مار پیٹ کی گئی۔ تاہم، ایک مقامی ذمہ دار شہری نے پولیس والوں کو بھیڑ کے غصہ سے بچا لیا۔
Published: undefined
گاؤں کے ایک بزرگ انور احمد نے بتایا کہ یہاں افواہ پھیلائی گئی تھی کہ پولیس دو لڑکوں کو پکڑ کر لے جا رہی ہے اور ان کا انکاؤنٹر کیا جائے گا۔ گزشتہ ہفتہ نزدیکی ضلع سہارنپور میں بھی پولیس کے ساتھ مڈبھیڑ میں ایک گئو کشی کے ملزم کی موت ہو گئی تھی۔ اس کے علاوہ ایک درجن سے زیادہ افراد کے پیر میں گولی لگی ہے۔ اس واقعہ کی وجہ سے ٹپرانا میں پھیلی افواہ سے لوگ گھبرا گئے۔ اس کے بعد مقامی کوتوال ونود کمار سنگھ رات میں ہی گاؤں پہنچے۔ انہوں نے حکمت عملی سے کام لیتے ہوئے سب سے پہلے ماحول کو پُر سکون کیا اور اہم ملزم افضل کو حراست میں لے لیا اور زخمی پولیس اہلکار کے ساتھ واپس لوٹ آئے۔
Published: undefined
پولیس امور کے ماہر جھنجھانہ کے ساحل خان کا کہنا ہے ’’انسپکٹر جھنجھانہ نے بڑی ذہانت سے کام لیا اور معاملہ کو سنبھال لیا، اس کے بعد انہوں نے اعلی حکام کو مطلع کیا۔‘‘ گاؤں والے کہتے ہیں کہ یہ 'جنگ' کی صورت حال تھی، گاؤں کا پوری طرح محاصرہ کر لیا گیا تھا اور یہاں آنے والی ہر سڑک پر پولیس اہلکار تعینات تھے۔ صبح پانچ بجے تک پولیس گاؤں میں موجود رہی۔
نفاسات (تبدیل شدہ نام ) کا کہنا ہے کہ ’’پولیس جو کچھ بھی کر سکتی تھی اس نے کیا اور مسلمانوں کے خلاف تعصب سے کام کیا۔ پولیس نے غصہ انتقامی کارروائی کی ہے، جس کے نتیجہ میں مکانات تباہ ہو گئے۔ یہاں تک کہ لوٹ مار بھی کی۔‘‘ کئی عورتوں کا الزام ہے کہ پولیس نے ان کے زیرر اور پیسہ بھی لوٹ لیا۔ پولیس نے گالیاں دیں، عورتوں کی بےحرمتی کی اور فرقہ وارانہ جملے بھی کہے۔ چار گھنٹے بندوق اور لاٹھی کے زور پر دبدبہ بنا کر رکھا۔‘‘
Published: undefined
انہوں نے کہا، ’’پولیس نے جو دل میں آیا وہی کیا۔ یوں لگتا تھا کہ پولیس کہہ رہی ہو کہ ’ہر اس سر کو کچل دیا جائے گا جو ابھرنے کی کوشش کرے گا‘۔ پولیس نے کچھ لوگوں کی غلطی کا بدلہ پورے گاؤں سے لیا ہے۔ عورتوں، بزرگوں اور بچوں ہر کسی کو زد و کوب کیا گیا۔‘‘ واضح رہے کہ پولیس کے ظلم سے 35 گھر متاثر ہوئے ہیں، 128 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا اور 30 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا، ’’پولیس کی اس کارروائی کے بعد ٹپرانا میں خوف کا سایہ منڈلا رہا ہے۔ یہاں کے مکانوں پر ’مکان برائے فروخت‘ کے پوسٹر نظر آ رہے ہیں اور 200 سے زیادہ افراد نقل مکانی کر کے چلے گئے ہیں۔ جن لوگوں نے پولیس پر پتھراؤ کیا ان پر کارروائی کرنی چاہئے تھی، بےقصوروں پر ظلم نہیں ہونا چاہئے تھا۔‘‘
Published: undefined
کانگریس کے مغربی اتر پردیش کے انچارج اور شاملی سے سابق رکن اسمبلی پنکج ملک کا کہنا ہے کہ ٹپرانا میں پولیس نے انتہائی ظلم و جبر سے کام کیا ہے۔ کچھ لوگوں کے کئے کی سزا پورے گاؤں یا برادری کو نہیں دی جا سکتی۔ اس ملک میں ایک آئین ہے، قانون ہے ۔ پولیس کو قانون کے مطابق ہر کام کرنا چاہئے تھا۔
پنکج ملک کے والد اور راجیہ سبھا کے سابق رکن ہریندر ملک نے ٹپرانا گاؤں کا دورہ کیا اور پولیس کی ’انتقام کے تحت کی گئی کارروائی‘ کا جائزہ لیا۔ پنکج ملک کہتے ہیں ’’پولیس کا کام بدلہ لینا نہیں ہے۔ یہ ایک منظم اور تربیت یافتہ تنظیم ہے۔ گاؤں کے لوگوں سے بات کرنے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ پولیس نے انتقام کے تحت کارروائی کی ہے۔‘‘
Published: undefined
ادھر، شاملی کے ایس پی ونیت جیسوال نے پولیس پر عائد تمام الزامات کی تردید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے ’’پولیس نے کسی بھی طرح قانون کی خلاف ورزی نہیں کی ہے اور کسی بے قصور کو جیل نہیں بھیجا جائے گا، مگر قصوروار اور گئو کشی کرنے والوں کی مدد کرنے والوں کو بخشا نہیں جائے گا۔‘‘
ایس پی ونیت جیسوال نے واقعے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا، ’’پولیس گئو کشی کرنے والوں کے خلاف مہم چلا رہی ہے۔ انہیں پتہ چلا تھا کہ دو مجرم افضل اور ملا گاؤں میں آئے ہیں اور گئو کشی کا ارادہ رکھتے ہیں۔ پولیس انہیں گرفتار کرنے پہنچی تو چھوٹی مسجد سے اعلان کرکے بھیڑ کو اکٹھا کیا گیا۔ بھیڑ کو اکسا کر گرفتار شدگان کو چھڑانے کی کوشش کی گئی۔ کے بعد اکٹھا ہو کر پولیس پر لاٹھیوں سے حملہ کیا گیا ، فائرنگ کی گئی ، ہمارے دو سب انسپکٹر اور تین اہلکار زخمی ہوئے۔اس کے بعد پولیس کو طاقت کا استعمال کرنا پڑا۔‘‘
Published: undefined
خوف کی وجہ سے مسلمانوں کی نقل مکانی پر ایس پی نے کہ، ‘’’ شاملی میں نقل مکانی ایک عا ببات ہے۔ پولیس پر دباؤ بنانے کی نیت سے نقل مکانی کی بات کو مشہور کیا جا رہا ہے لیکن پولیس نہیں جھکے گی۔ مقامی رکن اسمبلی ملاقات کے لئے آئے تھے۔ ہم نے ان سے واضح کر دیا ہے کہ ہم بےقصوروں کو پریشان نہیں کیا جا رہا اور مجرموں کو ضرور گرفتار کیا جائے گا۔
ٹپرانا میں 26 مئی سے سیاسی لوگوں کا تانتا لگا ہوا ہے۔ سہارنپور کے رکن پارلیمنٹ فضل الرحمن ، کانگریس کے رہنما عمران مسعود، سابق ایم ایل سی عمر علی خان، کیرانہ کے رکن اسمبلی ناہید حسن گاؤں کا دورہ کر چکے ہیں۔ یہ تمام بے گناہوں کے خلاف کارروائی سے ناراض ہیں ۔ حکام سے بات کی جا رہی ہے کہ بے گناہوں کو مزید پریشان نہ کیا جائے۔
Published: undefined
ٹپرانا کے لوگ اس وقت بےحد خوفزدہ نظر آتے ہیں۔ گاؤں کے پردھان ناصر خان صحافیوں کا فون نہیں اٹھاتے۔ متاثرہ شخص عبدالکلام فون پر صحافی کا نام سنتے ہی رابطہ منقطع کر دیتے ہیں۔مقامی سماجی کارکنان بھی اس موضوع پر بات کرنے سے کترا رہے ہیں۔ اگر کوئی بات کرتا بھی ہے تو اس گزارش کے ساتھ کہ اس کا نام عام نہ کیا جائے۔ گاؤں میں کس قدر خوف کا عالم ہے ان تمام باتوں سے ظاہر ہو جاتا ہے۔ ادھر، ایس پی ونیت کا کہنا ہے ’’کسی کو بلاوجہ ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے مگر پولیس پر حملہ کرنے والوں بخشا نہیں جا سکتا اور انہیں انجام بھگتنا پڑے گا۔‘‘
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined