
علامتی تصویر
ملک کے کئی حصوں میں کڑاکے کی سردی کے ساتھ موسم کی شدت برقرار ہے۔ شمالی ہندوستان میں سرد لہر اور گھنے کہرے نے معمولات زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔ صبح اور رات کے اوقات میں درجۂ حرارت میں نمایاں گراوٹ دیکھی جا رہی ہے، جس کے باعث عوام کو شدید سردی کا سامنا ہے۔ محکمۂ موسمیات نے شمالی ہندوستان کی تین ریاستوں میں بارش اور پہاڑی علاقوں میں برف باری کا انتباہ جاری کیا ہے، جبکہ میدانی علاقوں میں گھنے کہرے کے سبب آمد و رفت متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
Published: undefined
محکمۂ موسمیات کے مطابق 2 جنوری 2026 کو اتراکھنڈ، ہماچل پردیش اور جموں و کشمیر میں بارش جبکہ بالائی علاقوں میں برف باری کا امکان ہے۔ ہماچل پردیش کے منالی، ڈلہوزی اور وادیٔ لاہول میں برف گرنے کی توقع ہے، جس سے سردی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ اتراکھنڈ کے دہرادون، نینی تال اور الموڑا میں ہلکی سے درمیانی بارش کے آثار بتائے گئے ہیں۔
دہلی اور این سی آر میں صبح کے وقت شدید کہرا چھائے رہنے کا امکان ہے۔ شمالی، مغربی، جنوبی اور جنوب مغربی دہلی میں حدِ نگاہ انتہائی کم ہو سکتی ہے، جس سے سڑک حادثات کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ صبح کے اوقات میں درجۂ حرارت پانچ سے نو ڈگری سیلسیس کے درمیان رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ دہلی-دہرادون ایکسپریس وے اور اکشر دھام کے اطراف گاڑی چلاتے وقت خصوصی احتیاط کی ہدایت دی گئی ہے۔
Published: undefined
اتر پردیش کے کئی اضلاع میں سرد لہر اور گھنے کہرے کا الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ لکھنؤ، کانپور، گورکھپور، آگرہ، میرٹھ، غازی آباد، ایودھیا اور بارہ بنکی سمیت 25 سے زائد اضلاع میں صبح کے وقت سردی اور کہرے کی شدت بڑھنے کا امکان ہے۔ لکھنؤ میں کم از کم درجۂ حرارت چھ ڈگری سیلسیس تک گر سکتا ہے۔
بہار میں دو اور تین جنوری کو شدید سرد لہر کی وارننگ دی گئی ہے۔ پٹنہ، مظفرپور، بھاگلپور، پورنیہ، کٹیہار اور کشن گنج سمیت کئی اضلاع گھنے کہرے کی زد میں رہیں گے۔ پٹنہ میں کم از کم درجۂ حرارت 5 ڈگری سیلسیس تک پہنچ سکتا ہے۔ جھارکھنڈ میں صبح کے وقت سردی کا زور رہے گا جبکہ دوپہر کے بعد موسم صاف ہونے کی امید ہے۔ راجستھان اور مدھیہ پردیش کے کئی اضلاع میں بھی کہرا اور ہلکی بارش سردی میں اضافہ کر سکتی ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined