
بھوج شالہ، تصویر @Itishree001
مدھیہ پردیش کے دھار ضلع میں واقع بھوج شالہ ایک بار پھر سیاسی اور مذہبی بحث کا مرکز بن گیا ہے۔ 23 جنوری کو بسنت پنچمی اور جمعہ کی نماز ایک ہی دن ہونے کی یہ جہ سے پرانا تنازعہ پھر تازہ ہوگیا ہے۔ ہندو تنظیموں کا مطالبہ ہے کہ بسنت پنچمی پر دن بھر سرسوتی پوجا کی اجازت دی جائے۔ دریں اثنا مسلم کمیونٹی نے نماز جمعہ کی روایت میں کسی قسم کی رکاوٹ کی مخالفت کی ہے اور موجودہ حالات جوں کے توں برقراررکھنے پر زور دے رہی ہے۔
Published: undefined
ایک ہی دن دو الگ الگ مذہبی انعقاد سے علاقے میں کشیدگی کا ماحول پایا جارہا ہے۔ صورتحال کے پیش نظر انتظامیہ الرٹ موڈ پر ہے۔ سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اضافی پولیس فورس تعینات کی گئی ہے۔ یہ تنازعہ برسوں سے تاریخ، عقیدے اور قانون کے درمیان الجھا ہوا ہے۔
Published: undefined
دھار شہر میں واقع بھوج شالا ایک تاریخی ورثہ ہے جسے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) نے محفوظ یادگار قرار دیا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ 11 ویں صدی میں پرمار حکمران راجہ بھوج کے دور میں یہ مقام علم اور تعلیم کا بڑا مرکز تھا جہاں دیوی سرسوتی کی پوجا کی جاتی تھی۔ اسی احاطے میں کمال مولیٰ مسجد ہے جس میں زمانۂ قدیم سے نماز ادا کی جارہی ہے۔
Published: undefined
بھوج شالا تنازعہ اس کی مذہبی شناخت میں جڑا ہوا ہے۔ ہندو فریق کا دعویٰ ہے کہ یہ مقام اصل میں دیوی سرسوتی کے لیے وقف ایک مندر ہے جب کہ مسلم فریق اسے ایک تاریخی مسجد بتاتے ہوئے نماز ادا کرنے کے حق پر اصرار کرتا ہے۔ ایک ہی احاطے میں دو مذہبی دعوؤں کی وجہ سے اس معاملے پر کئی دہائیوں سے تنازعہ چلا آرہا ہے۔ 2003 میں انتظامیہ نے ایک نظام قائم کیا تھا جس کے تحت ہندوؤں کو منگل کے روز پوجا اور مسلمانوں کو جمعہ کے روز نماز اداکرنے کی اجازت تھی۔
Published: undefined
سال 2024 میں تنازعہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے اے ایس آئی کو بھوج شالا احاطے کا سائنسی سروے کرنے کی ہدایت دی۔ اس سروے کا مقصد اس مقام کی تاریخی اور تعمیراتی سچائی کو سامنے لانا تھا۔ اے ایس آئی کی ابتدائی رپورٹ میں مندر کے باقیات اور مجسمے کے نشانات ملنے کی بات کہی گئی ہے حالانکہ حتمی فیصلہ ابھی عدالت میں زیر التوا ہے۔ وہیں سپریم کورٹ نے سروے پر روک لگانے سے انکار کرتے ہوئے واضح کیا کہ رپورٹ کی بنیاد پر جلد بازی میں کوئی فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔
Published: undefined
تنازعہ کے پیش نظر دھار شہر میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔ شہر میں 8000 سے زیادہ پولیس اور نیم فوجی دستوں کو تعینات کیا گیا ہے۔ بھوجشالہ احاطے کے ارد گرد نو فلائی زون کا اعلان کیا گیا ہے۔ امن و امان میں خلل ڈالنے والوں کو تنبیہ بھی کی گئی ہے کہ امن و امان میں خلل ڈالنے والوں کے خلاف سخت اور موثر کارروائی کی جائے گی۔
Published: undefined
ضلع انتظامیہ نے بسنت پنچمی پر بھوج شالا علاقے میں 300 میٹر کے دائرے میں نو فلائی زون کا اعلان کیا ہے۔ کسی بھی پرواز کی سرگرمی جیسے ڈرون، پیراگلائیڈنگ، گرم ہوا کے غبارے، بغیر پائلٹ کے فضائی گاڑیاں (یو اے وی) یا کسی بھی طرح کی اڑنے والی چیز پر پابندی رہے گی۔ اس حکم کی خلاف ورزی کی صورت میں میونسپل کونسل کے ذریعے سخت کارروائی کی جائے گی۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined