قومی خبریں

اسکالر شپ گھپلہ: سی بی آئی کے بجائے ایس آئی ٹی سے تحقیقات کرانے کا مطالبہ

اترا کھنڈ ہائی کورٹ نے اس سے قبل حکومت سے سوال کیا تھا کہ گھپلے میں ہو رہی تاخیر کے پیش نظر کیوں نہ اس کی جانچ سی بی آئی کے حوالے کردی جائے۔ اس کے بعد چیف سکریٹری کی جانب سے یہ جواب سامنے آیا ہے۔

ہائی کورٹ، اتراکھنڈ
ہائی کورٹ، اتراکھنڈ 

نینی: اتراکھنڈ حکومت تقریباً 600 کروڑ روپے کی اسکالر شپ گھپلہ کی تحقیقات مرکزی تفتیشی بیورو کے حوالے نہیں کرنا چاہتی۔ حکومت چاہتی ہے کہ گھپلہ کی تحقیقات خصوصی تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی) ہی کرے۔ ریاست کے چیف سکریٹری اوم پرکاش کی جانب سے جمعہ کو اترا کھنڈ ہائی کورٹ میں جواب پیش کیا گیا۔ حکومت کی طرف سے یہ بھی کہا گیا کہ ابھی تک گھپلے کی 77 فیصد جانچ مکمل ہوچکی ہے، صرف 23 فیصد تحقیقات باقی رہ گئی ہے۔ حکومت کی جانب سے اس کے لیے عدالت سے مزید چھ ماہ کا وقت طلب کیا گیا ہے۔

Published: undefined

اتراکھنڈ حکومت کے اس جواب پر عدالت عالیہ کو پیر کو فیصلہ کرنا ہے۔ دہرادون کے رہائشی روندر جگران کی طرف سے دائر پی آئی ایل پر جمعہ کو قائم مقام چیف جسٹس روی کمار ملیمتھ و جج روندر میٹھانی کی بنچ میں سماعت ہوئی۔ بنچ نے اس سے قبل حکومت سے سوال کیا تھا کہ گھپلے میں ہو رہی تاخیر کے پیش نظر کیوں نہ اس کی جانچ سی بی آئی کے حوالے کردی جائے۔ اس کے بعد چیف سکریٹری کی جانب سے یہ جواب سامنے آیا ہے۔

Published: undefined

درخواست گزار جگران کی طرف سے 2018 میں ایک پی آئی ایل دائر کرکے طلبہ کے وظیفہ گھپلہ کو ظاہر کیا گیا تھا۔ درخواست گزار کی طرف سے کہا گیا کہ ایس سی ایس ٹی کے طلباء کے نام پر کروڑوں روپے کا گھپلہ کیا گیا ہے۔ حکومت ایس آئی ٹی تحقیقات کے نام پر خانہ پری کر رہی ہے۔ اس کے بعد ہائی کورٹ کی نگرانی میں دو الگ الگ ایس آئی ٹی ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔ ایک ٹیم کو ہری دوار اور دہرادون کے معاملات کی جانچ سونپی گئی جبکہ بقیہ گیارہ اضلاع کے معاملے کی تحقیقات آئی پی ایس افسر سنجے گنجیال والی ایس آی ٹی کے حوالے کی گئی۔ ابھی تک ایس آئی ٹی کے رڈار پر آئے 24 ملزم پکڑے جاچکے ہیں جبکہ مانا جارہا ہے کہ دہرادون میں کچھ بڑے نام اس کی گرفت میں آسکتے ہیں۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined