
سپریم کورٹ نے 24 مارچ کو ایک اہم فیصلہ میں کہا کہ مذہب تبدیل کرنے والا شخص مکمل طور پر ’درج فہرست ذات‘ (شیڈولڈ کاسٹ) کے درجہ سے محروم ہو جاتا ہے۔ اس معاملہ میں سپریم کورٹ نے آندھرا پردیش ہائی کورٹ کے فیصلہ کو برقرار رکھا ہے۔ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلہ میں کہا تھا کہ اگر کوئی شخص مثال کے لیے عیسائی مذہب اختیار کر لیتا ہے اور عیسائی مذہب کے مطابق زندگی گزار رہا ہے تو اسے درج فہرست ذات کا فرد نہیں مانا جا سکتا۔ عدالت نے کہا کہ ہندو مذہب، سکھ مذہب اور بودھ مذہب کے علاوہ کسی بھی دوسرے مذہب کو ماننے والا شخص درج فہرست ذات کا رکن نہیں مانا جا سکتا۔
Published: undefined
اس تعلق سے سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ آئینی حکم 1950 میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ شق-3 میں بتائے گئے مذاہب کے علاوہ کسی بھی مذہب میں تبدیلی کرنے پر، پیدائش کے باوجود، درج فہرست ذات کا درجہ فوراً ختم ہو جاتا ہے۔ یہ حکم ایک ایسے شخص کے معاملہ میں دیا گیا، جس نے عیسائی مذہب اختیار کر لیا تھا اور اب بطور پادری کام کر رہا ہے، لیکن اس نے کچھ لوگوں کے خلاف ایس سی-ایس ٹی (مظالم کی روک تھام) قانون کے تحت مقدمہ درج کرایا تھا۔ مقدمہ درج کرانے والے شخص نے ایس سی-ایس ٹی قانون کے تحت تحفظ کی مانگ کی تھی۔ تاہم جن لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا، انہوں نے اسے چیلنج کیا اور دعویٰ کیا کہ متاثرہ شخص عیسائی مذہب اپنا چکا ہے۔
Published: undefined
واضح رہے کہ 30 اپریل 2025 کو آندھرا پردیش ہائی کورٹ نے اپنے فیصلہ میں کہا تھا کہ عیسائی مذہب میں ذات پات کا نظام نہیں ہے۔ ایسے میں متاثرہ شخص ایس سی-ایس ٹی قانون کی دفعات سے فائدہ اٹھانے کا اہل نہیں ہے۔ اس کے بعد ہائی کورٹ نے ایس سی-ایس ٹی ایکٹ کے تحت درج دفعات کو ختم کرنے کا حکم دیا تھا۔ ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف پادری نے سپریم کورٹ میں اسپیشل لیو پٹیشن دائر کی۔
Published: undefined
سپریم کورٹ میں جسٹس پرشانت کمار مشرا اور جسٹس این وی انجاریا کی بنچ نے کہا کہ ’’اس معاملہ میں یہ اہم نہیں ہے کہ اپیل کنندہ عیسائی مذہب سے اپنے اصل مذہب میں واپس آیا ہے یا اسے اس کے اصل برادری نے قبول کیا ہے یا نہیں۔ بلکہ شواہد سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اپیل کنندہ عیسائی مذہب پر عمل کرتا ہے اور ایک دہائی سے زیادہ عرصہ سے بطور پادری کام کر رہا ہے۔ وہ گاؤں کے گھروں میں باقاعدگی سے اتوار کی دعاؤں کا اہتمام کرتا ہے۔ ان حقائق سے اس بات میں کوئی شک نہیں رہتا کہ واقعہ کے وقت وہ عیسائی تھا۔‘‘
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined