
تصویر قومی آواز / وپن
نئی دہلی: دہلی کے ستیہ نکیتن علاقے میں پانچ منزلہ عمارت منہدم ہونے کے واقعے کے بعد کانگریس نے طلبہ کی حفاظت اور ان کے لیے مناسب رہائشی سہولیات فراہم کرنے کی حکومت کی ذمہ داری پر سوال اٹھائے ہیں۔ پارٹی نے غیر قانونی تعمیرات کے خلاف موجود قانونی دفعات پر مؤثر عمل درآمد کے ساتھ ساتھ دہلی میں طلبہ کے لیے 100 ہاسٹل تعمیر کرنے اور پیئنگ گیسٹ (پی جی) رہائش کے نظام کو منظم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
کانگریس کے اے آئی سی سی قومی سکریٹری ابھیشیک دت نے حادثے میں جان گنوانے والے طلبہ کے اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ دہلی ملک بھر سے تعلیم اور روزگار کے لیے آنے والے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے، اس لیے ان کی حفاظت اور مناسب سہولیات کی فراہمی حکومت کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ 1985 میں کانگریس حکومت کے دور میں اس وقت کے وزیر اعظم راجیو گاندھی کی حکومت نے دہلی میونسپل کارپوریشن (ڈی ایم سی) ایکٹ میں ترمیم کر کے دفعہ 466 اے شامل کی تھی، جس کے تحت غیر قانونی تعمیرات میں ملوث بلڈروں کے خلاف کارروائی اور جرمانے کی گنجائش فراہم کی گئی تھی۔ دت نے دعویٰ کیا کہ اس وقت اس دفعہ کے تحت کئی بلڈروں کے خلاف کارروائی ہوئی اور انہیں جیل بھی بھیجا گیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا آج بھی ان قانونی حفاظتی اقدامات پر مؤثر طریقے سے عمل ہو رہا ہے؟
یہ بیان ایک روز قبل ستیہ نکیتن میں بوائز پیئنگ گیسٹ رہائش کے طور پر استعمال ہونے والی پانچ منزلہ عمارت کے منہدم ہونے کے بعد سامنے آیا ہے۔ حادثے میں سات افراد کی موت ہوئی، جبکہ متعدد افراد کو ملبے سے نکالا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ عمارت کے تہہ خانے میں مرمت کا کام جاری تھا، اسی دوران عمارت منہدم ہوگئی۔
دوسری جانب کانگریس کی طلبہ تنظیم این ایس یو آئی نے طلبہ کے لیے سرکاری ہاسٹل کی کمی اور مہنگے و غیر منظم پی جی نظام کو بھی مسئلہ بنایا ہے۔ این ایس یو آئی کے انچارج اور کانگریس لیڈر کنہیا کمار نے کہا کہ حادثے سے ایک روز قبل وزیر اعظم نریندر مودی نے دہلی کے سری رام کالج آف کامرس میں طلبہ سے خطاب کیا تھا اور کالج کے لیے 100 روپے مالیت کا سکہ جاری کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بہتر ہوتا اگر طلبہ کے لیے 100 ہاسٹل بنانے کا اعلان کیا جاتا۔
اندازے کے مطابق دہلی یونیورسٹی کے کالجوں میں زیر تعلیم تقریباً سات لاکھ طلبہ میں سے لگ بھگ ساڑھے تین لاکھ دوسرے شہروں اور ریاستوں سے دہلی آتے ہیں۔ تاہم یونیورسٹی میں ہاسٹل کی سہولت انتہائی محدود ہے۔ اس کے مقابلے میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی تقریباً 55 سے 65 فیصد طلبہ کو ہاسٹل فراہم کرتی ہے، جبکہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں بھی ہاسٹل کی سہولت دہلی یونیورسٹی کے مقابلے میں کہیں بہتر ہے۔
دہلی یونیورسٹی میں صرف تقریباً ایک فیصد طلبہ کو ہاسٹل کی سہولت دستیاب ہونے کے باعث بڑی تعداد میں طلبہ مکھرجی نگر اور ستیہ نکیتن جیسے علاقوں میں نجی پی جی یا کرائے کے فلیٹ میں رہتے ہیں۔ این ایس یو آئی کے مطابق ستیہ نکیتن میں ٹوئن شیئرنگ پی جی کا کرایہ 14 ہزار روپے ماہانہ تک پہنچ جاتا ہے۔ بجلی اور پانی کا خرچ الگ ہوتا ہے، کھانے کا انتظام بھی طلبہ کو خود کرنا پڑتا ہے اور بعض جگہ کرایے کی رسید تک نہیں دی جاتی۔
تنظیم نے پی جی رہائش کے لیے رینٹ کنٹرول ایکٹ نافذ کرنے اور مکان مالکان کی جانب سے فراہم کی جانے والی سہولیات کو منظم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ این ایس یو آئی نے ان مسائل کو 18 ستمبر کو ہونے والے دہلی یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین (ڈوسو) انتخابات میں بھی اہم مسئلہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔