
پریس کانفرنس کے دوران سندیپ دیکشت / تصویر آئی این سی
نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما سندیپ دیکشت نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہلی کی موجودہ فضائی صورتحال اس حد تک خراب ہو چکی ہے کہ اسے وہ ذاتی طور پر دھیما زہر اور بڑی ناکامی مانتے ہیں۔ دیکشت نے کہا کہ چونکہ ڈاکٹر بھی بتا چکے ہیں کہ دہلی کی آلودہ ہوا ایک عام شہری کی عمر 6 سے 7 سال تک کم کر دیتی ہے، اس لیے یہ مسئلہ صرف سیاسی نہیں بلکہ براہِ راست انسانی زندگی سے جڑا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر سال پرالی اور دیوالی کے وقت ہونے والی بحث لوگوں کو اصل مسئلے سے بھٹکاتی ہے، کیونکہ اصل آلودگی پورے سال جاری رہتی ہے۔ ان کے مطابق دہلی کی شدید آلودگی میں پرالی اور پٹاخوں کا حصہ بہت کم ہے، جبکہ سب سے بڑی وجہ گاڑیوں کا دھواں، بے ترتیب ٹریفک، عوامی ٹرانسپورٹ کی تباہی اور کچرے کا جلانا ہے۔
Published: undefined
سندیپ دیکشت نے کہا کہ گاڑیوں کی تعداد بڑھنے کو وجہ بتا کر حکومتیں عوام کو گمراہ کرتی ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ٹیکنالوجی بہتر ہونے کے باوجود سڑکوں کی خستہ حالی اور ٹریفک جام نے آلودگی میں کئی گنا اضافہ کیا ہے۔ ان کے مطابق دہلی میں رات کے وقت گاڑیوں کی اوسط رفتار 15 کلو میٹر فی گھنٹہ تک گر جاتی ہے، جو آلودگی کو 2.5 گنا بڑھا دیتی ہے۔
انہوں نے دہلی کے پبلک ٹرانسپورٹ نظام کو پوری طرح ناکام قرار دیتے ہوئے کہا کہ 2013-14 میں چلنے والی بسوں کے مقابلے میں آج بسیں آدھی رہ گئی ہیں جبکہ میٹرو کے نئے روٹس کی منصوبہ بندی بھی رکی ہوئی ہے۔ ان کے مطابق بسیں، میٹرو اور انفراسٹرکچر بہتر کیے بغیر نجی گاڑیوں کا دباؤ کم نہیں ہو سکتا۔
Published: undefined
ان کا کہنا تھا کہ دہلی میں غیرمجاز صنعتیں ناقص ایندھن استعمال کر کے آلودگی پھیلا رہی ہیں اور یہ سب پولیس، ایم سی ڈی اور سیاسی پشت پناہی کے بغیر ممکن نہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2004-05 کے دوران آلودگی پھیلانے والی صنعتوں کو سختی سے بند کیا گیا تھا مگر اب حکومتیں سیاسی فائدے کے لیے خاموش ہیں۔
کچرے کو جلانے کو بھی ایک بڑا سبب قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہلی میں ویسٹ سیگریگیشن کا نظام ختم ہو چکا ہے، کچرے کے ڈھیر بڑھ رہے ہیں اور انہیں کھلے میں جگہ جگہ جلایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق کچرے سے تواناتی پیدا کرنے والے پلانٹوں کو سیاست کی نذر کر کے بند کر دیا گیا جبکہ دنیا بھر میں یہی ٹیکنالوجی استعمال ہو رہی ہے۔
Published: undefined
دیکشت نے کہا کہ حکومتیں سڑکوں پر پانی چھڑکنا یا چند روز کے لیے اسکول بند کرنے جیسے دکھاوے کے اقدامات کرتی ہیں مگر بنیادی وجوہات پر کام نہیں کرتیں۔ انہوں نے آلودگی کے لیے دہلی اور مرکزی حکومت دونوں کو برابر کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ اس سانحہ میں دونوں ہی برابر کے شریک ہیں۔‘‘
سندیپ دیکشت نے نے وزیراعظم، وزیراعلیٰ اور لیفٹیننٹ گورنر سے مطالبہ کیا کہ آلودگی پر قومی سطح کی بحث کرائی جائے، مشترکہ کمیٹی بنے اور ایسی پالیسیاں بنائی جائیں جو واقعی دہلی کے شہریوں کی جان بچا سکیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined