
رندیپ سرجے والا / سوشل میڈیا
کانگریس لیڈر اور راجیہ سبھا رکن رندیپ سرجے والا نے ہریانہ کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ہریانہ میں ’نشے کے زہر‘ کی وجہ سے کہرام مچا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریاست کی نسلیں برباد ہونے لگی ہیں، ڈرگس کے معاملوں میں 81 فیصد کا اضافہ ہوا ہے، لیکن بی جے پی حکومت غائب ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’ڈرگ مافیاؤں نے پورے ہریانہ پر قبضہ جما لیا ہے۔ حکومت آخر کیا کر رہی ہے؟ دوا کی دکانوں سے کھلے عام ’میڈیکل نشہ‘ فروخت ہو رہا ہے۔‘‘
Published: undefined
ریاست میں نشے کے لیے انجکشن لیتے نوجوانوں کی میڈیا رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے سرجے والا نے بی جے پی حکومت پر جم کر حملہ بولا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ کی ایک طویل پوسٹ میں لکھا کہ ’’پورے ہریانہ کو نشے کا ناسور کھوکھلا کرتا جا رہا ہے اور حالات مسلسل سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔ لیکن حکومت ناکام اور ڈرگس اسمگلر بے لگام ہو گئے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ نئے سال کے ابتدائی ڈیڑھ ماہ میں منشیات کی سپلائی کے جرائم میں 81 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔‘‘
Published: undefined
کانگریس لیڈر کے مطابق ہریانہ میں حالات اس قدر خراب ہو چکے ہیں کہ اپنے ہی ہاتھوں یا نسوں سے نکالے خون میں نشے کی گولیاں گھول کر نوجوان انجکشن لے رہے ہیں۔ میڈیکل نشہ سپلائی کرنے والوں کے بارے میں جانکاری ہونے کے باوجود پولیس انتظامیہ آخر کس دباؤ میں کوئی کارروائی نہیں کر رہی ہے۔ کھلے عام فروخت ہو رہے نشے کا ذکر کرتے ہوئے کانگریس لیڈر نے کہا کہ ’’دوا کی دکانوں سے کھلے عام میڈیکل نشہ فروخت ہو رہا ہے۔ حالت یہ ہے کہ 40 روپے والا انجکشن اب 1000 روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے اور 10 ایم ایل کا ڈوز سیٹ 100 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔‘‘
Published: undefined
نشے کو روکنے میں سرکار کی ناکامی کا ذکر کرتے ہوئے سرجے والا نے کہا کہ ’’ریاست میں مسلسل بڑھتی ہوئی منشیات کی اسمگلنگ اور اس کی لت پر قابو پانے کی تمام کوششیں صرف کاغذوں تک ہی محدود ہیں اور حکومت کے تمام دعوے جھوٹے ثابت ہو رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر ہریانہ کے حال و مستقبل کو برباد کرتے نشہ مافیاؤں اور بی جے پی حکومت میں بیٹھے ان کے سفید پوش آقاؤں پر کارروائی کب ہوگی؟‘‘
Published: undefined
کانگریس لیڈر نے کہا کہ ’’ریاست میں بی جے پی کی نااہلی کے سبب پھیلی ہوئی ’منشیات کی وبا‘ نوجوانوں کی زندگیاں اور خاندانوں کا سہارا ختم کرتی جا رہی ہے۔ ہر گھر میں ماتم اور بے بسی چھائی ہے، مگر ’اقتدار کی مدہوشی‘ میں ڈوبی نائب حکومت بے ہوش پڑی ہے۔‘‘
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined