راہل گاندھی اور روہت پوار، تصوری بشکریہ @RRPSpeaks
پونے کے بارامتی سے این سی پی (ایس پی) رکن اسمبلی روہت پوار نے بھوک ہڑتال پر بیٹھے مہاراشٹر کے قبائلی طلبہ کی آواز اٹھانے اور وزیر اعلیٰ کو خط لکھنے پر راہل گاندھی کا شکریہ ادا کیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’راہل گاندھی آپ نے اس انتہائی اہم معاملے میں ذاتی طور پر توجہ دی، اس کے لیے آپ کا دل سے شکریہ۔‘‘ وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’’قبائلی طلبہ کا یہ معاملہ انتہائی سنگین اور حساس ہے۔ بدقسمتی کی بات ہے کہ پیر کو ہوئی مہاراشٹر کابینہ کی میٹنگ میں اس موضوع پر بحث تک نہیں ہوئی۔ قبائلی امور کے وزیر کے ساتھ طلبہ کی ہوئی میٹنگ میں بھی کچھ حل نہیں نکلا۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت قبائلی طلبہ کے جائز مطالبات اور ان کے مسائل کے حل کو لے کر سنجیدہ نہیں ہے۔‘‘
روہت پوار اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں یہ بھی لکھتے ہیں کہ ’’آنے والے دنوں میں ان طلبہ کے ذریعہ ایک بڑی عوامی تحریک کے انعقاد کا امکان ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو اس تحریک میں آپ (راہل گاندھی) بھی موجود ہوں، ان طلبہ کی ایسی خواہش ہے۔ آپ کی موجودگی سے اس بے حس حکومت پر یقینی طور پر بڑا دباؤ بنے گا اور حکومت کو پیچھے ہٹ کر طلبہ کے جائز مطالبات کو قبول کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچے گا۔ اس لیے آپ اس معاملے پر یقینی طور پر مثبت انداز میں غور کریں اور طلبہ کے اس جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑے رہیں، یہی مؤدبانہ گزارش ہے۔‘‘
واضح رہے کہ راہل گاندھی نے پیر (24 اگست) مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کو ایک خط لکھا تھا کہ ’’پورے مہاراشٹر کے قبائلی طلبہ 10 دنوں سے زائد وقت سے بھوک ہڑتال پر ہیں۔ پونے میں انہوں نے مجھے ان قوانین کے بارے میں بتایا جو ان سے ان کا وقار چھینتے ہیں اور تعلیم کا راستہ بند کرتے ہیں۔ کئی قبائلی طلبہ دور دراز کے گاؤں سے آتے ہیں اور شہروں میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے سرکاری ہاسٹلوں پر منحصر رہتے ہیں۔ ایک نیا قانون 30 سال سے زائد عمر کے لوگوں کو ان ہاسٹلوں میں رہنے سے روکتا ہے، جس کی وجہ سے کئی ایسے طلبہ باہر ہو جاتے ہیں جو اب بھی تعلیم حاصل کر رہے ہیں یا امتحانات کی تیاری کر رہے ہیں۔‘‘
راہل گاندھی خط میں مزید لکھتے ہیں کہ ’’ہاسٹل غیر محفوظ ہے اور اکثر وہاں کھانا، صاف صفائی اور طبی سہولیات کی کمی ہوتی ہے۔ طلبہ کو چوٹیں آئی ہیں اور موتیں بھی ہوئی ہیں، جن میں سانپ کے کاٹنے سے ہوئی اموات بھی شامل ہیں۔‘‘ خط میں راہل گاندھی نے یہ بھی لکھا کہ ’’خواتین کو دی جانے والی سہولیات اور بھی بدتر ہیں۔ مجھے یہ جان کر حیرانی ہوئی کہ طویل عرصے تک باہر رہنے کے بعد لوٹنے والی طالبات کو اپنی فٹنس ثابت کرنے کے لیے پریگننسی ٹیسٹ اور کئی دیگر میڈیکل ٹیسٹ سے گزرنا پڑتا ہے۔ یہ ایک توہین آمیز عمل ہے جو انہیں تب تک قصوروار مانتا ہے جب تک وہ خود کو بے قصور ثابت نہ کر دیں۔ یہ قانون ان کی عزت اور انسانی وقار پر حملہ ہے۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔