
روہت پوار / آئی اے این ایس
ممبئی: شرد پوار کی قیادت والی نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی - ایس پی) کے رکن اسمبلی روہت پوار نے اجیت پوار کے طیارہ حادثہ معاملہ میں سی بی آئی کے ذریعے کی گئی گرفتار پر ردعمل ظاہر کیا ہے۔ روہت پوار نے پیر کے روز دعویٰ کیا کہ سی بی آئی کی جانب سے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (ڈی جی سی اے) کے ایئرورتھنیس ڈیپارٹمنٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر کی گرفتاری اور ایف آئی درج ہونے سے کئی بدعنوان افسران کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔
Published: undefined
روہت پوار نے ایکس پوسٹ میں کہا، ’’سی بی آئی نے ڈی جی سی اے کے ایئرورتھنیس ڈیپارٹمنٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر کو گرفتار کر لیا ہے اور ایف آئی آر بھی درج کی گئی ہے۔ ہم بار بار یہ بات کہتے رہے ہیں کہ ڈی جی سی اے میں کئی بدعنوان افسران موجود ہیں اور اس واقعہ نے ہماری بات کو سچ ثابت کر دیا ہے۔ جس شخص کو گرفتار کیا گیا ہے وہ تو صرف ایک ’چھوٹی مچھلی‘ ہے، اس تنظیم میں اس سے بھی کہیں زیادہ بڑی ’مچھلیاں‘ موجود ہیں ۔‘‘
Published: undefined
روہت پوار نے مزید کہا، ’’اگر ڈی جی سی اے میں کام رشوت دے کر کرایا جا رہا ہے، تو کوئی بھی آسانی سے یہ اندازہ لگا سکتا ہے کہ رشوت دینے اور بچولیے کا کردار ادا کرنے میں ماہر وی کے سنگھ نے دادا (اجیت پوار) کے حادثہ سے وابستہ دستاویزات کو کس طرح صاف (ثبوت مٹانے کا کام) کیا ہوگا۔ ایک طرف دادا کے حادثہ کی جانچ سی بی آئی کو سونپنے کی گزارش کئے ہوئے دو مہینے گزر گئے لیکن سی بی آئی نے ابھی تک اس معاملہ کو اپنے ہاتھ میں نہیں لیا، وہیں دوسری طرف سی بی آئی نے اس معاملہ میں اپنی طرف سے کارروائی کر رہی ہے جو کافی اہم بات ہے۔
خیال رہے کہ روہت پوار نے بارہا ڈی جی سی اے کے اندر ادارتی بدعنوانی اور اس معاملہ سے وابستہ نجی چارٹر طیارہ کے حفاظتی معیار پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے صاف طور پر کہا ہے کہ انہیں شک ہے کہ اس طیارہ حادثہ کے پیچھے کوئی سازش بھی ہو سکتی ہے۔ ان کے الزامات چارٹر آپریٹر وی ایس آر وینچرس اور ڈی جی سی اے کے افسران کے درمیان بدعنوانی کے ایک ’پریشان کرنے والےجال‘ پر مرکوز ہیں۔
Published: undefined
روہت پوار نے اپنے اس الزام کو دہرایا کہ ریگولیٹری ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پائلٹ کے پرواز کے گھنٹوں کی معلومات میں ہیر پھیر کیا گیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ حفاظت میں ہوئی کوتاہی کا انکشاف ہونے سے بچنے کے لیے کاک پٹ، وائس ریکارڈر (سی وی آر) کے ساتھ دانستہ طور پر چھیڑ چھاڑ کی گئی یا خاموشی سے پیسے دے کر انہیں بند کرا دیا گیا۔
روہت پوار نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ لیئرجیٹ 45 طیارہ کو پرواز کی اجازت کس طرح دی گئی، جبکہ اس میں اس سے پہلے بھی تکنیکی خرابی کی رپورٹ آئی تھی اور طیارہ کی دیکھ بھال کرنے والی کمپنی کی انتظامیہ میں مالی بے ضابطگیوں کے الزامات بھی عائد کئے جا چکے ہیں ۔انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور شہری ہوابازی کے ویزر کے رام موہن نائیڈو کو خط لکھ کر اس معاملہ کی تفصیلی اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined