ٹوٹی ہوئی سڑک، تصویر سوشل میڈیا
اتر پردیش کے گریٹر نوئیڈا میں کروڑوں روپے کے خرچ سے تعمیر کی گئی سڑک محض 15 دن کے اندر 2 مرتبہ ٹوٹ گئی۔ جیور علاقہ کی اس سڑک کی خستہ حالت کو لے کر اب تعمیراتی کام کے معیار پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ معاملہ حمیدپور کو بلند شہر سے جوڑنے والے قومی شاہراہ ’334 ڈی ڈی‘ سے متعلق ہے، جہاں مرمت کے بعد بھی سڑک جگہ جگہ سے اکھڑنے لگی ہے۔ مقامی لوگوں کی مسلسل شکایات کے بعد محکمہ حرکت میں آیا اور تعمیراتی ایجنسی کو سڑک دوبارہ بنانے کی ذمہ داری سونپ دی گئی۔
Published: undefined
موصولہ خبر کے مطابق طویل عرصہ سے خراب پڑے اس راستے کی مرمت کے لیے کروڑوں روپے کی لاگت سے ٹنڈر جاری کیا گیا تھا۔ نوئیڈا کی ماں بھگوتی کنسٹرکشن کمپنی نے کام شروع کیا اور تقریباً ایک کلومیٹر حصہ کی تعمیر مکمل کر دی۔ لیکن تعمیر کے چند ہی دن بعد سڑک ٹوٹنے لگی۔ محکمہ نے پہلے سڑک کی مرمت کرائی، لیکن صرف 5 دن بعد ہی سڑک دوبارہ خراب ہو گئی۔ جگہ جگہ گڑھے بن گئے ہیں، جس سے لوگوں میں ناراضگی پائی جا رہی ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ کروڑوں روپے خرچ ہونے کے باوجود سڑک کی یہ حالت تعمیراتی کام کے معیار پر سنگین سوالات کھڑے کرتی ہے۔
Published: undefined
بی جے پی جیور منڈل کے صدر سنجیو شرما نے اس معاملے میں ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سڑک گزشتہ تقریباً 2 برس سے خراب تھی۔ مقامی رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر مہیش شرما کی کوششوں سے سڑک کا ٹنڈر منظور ہوا تھا، لیکن ناقص تعمیراتی مواد کے استعمال کے باعث صرف 15 دن میں ہی سڑک دوبارہ ٹوٹ گئی۔ انہوں نے محکمہ سے مطالبہ کیا ہے کہ سڑک کو مکمل طور پر اکھاڑ کر از سر نو تعمیر کیا جائے۔
Published: undefined
دوسری طرف اس پورے معاملے پر قومی شاہراہ ڈویژن، محکمہ تعمیرات عامہ (پی ڈبلیو ڈی)، غازی آباد کے ایگزیکٹیو انجینئر اروند سنگھ یادو نے بتایا کہ تعمیراتی ایجنسی کو نوٹس جاری کر دیا گیا ہے۔ اس نوٹس میں ہدایت دی گئی ہے کہ خراب شدہ سڑک کو مکمل طور پر اکھاڑ کر دوبارہ تعمیر کیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ٹھیکیدار کو اس کام کے لیے ابھی تک کوئی ادائیگی نہیں کی گئی ہے۔ معیار کے مطابق سڑک تیار ہونے کے بعد ہی آئندہ کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ تعمیراتی معیار پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined