
تصویر بشکریہ آئی اے این ایس
ہریانہ کے گروگرام میں خاتون بائیکر شیوانی چوہان کا الزام ہے کہ ایک کار میں سوار لوگوں نے اس کا پیچھا کیا اور اسے رکنے کو کہا، جب اس نے انکار کیا تو کار والوں نے اس کی موٹر سائیکل کو ٹکر ماری اور فرار ہوگئے۔ کار سے ٹکرانے والی خاتون بائیکر نے بتایا کہ جب وہ سڑک پر گر گئی تو اس کے کچھ ساتھی بائیکرز نے کار ڈرائیور کا پیچھا کیا۔ یہ واقعہ اتوار یعنی 13 ستمبر کو گولف کورس روڈ پر پیش آیا۔
گولف کورس روڈ پر حادثے میں ملوث خاتون بائیکر شیوانی چوہان نے فیشن ڈیزائننگ کا کورس کیا ہوا ہے ۔ وہ گریجویٹ ہے۔ وہ عام آدمی پارٹی کی جانب سے کالکاجی سے میونسپل الیکشن لڑ چکی ہیں۔ ان کے والد روشن چوہان کے مطابق، کالکاجی اسمبلی حلقہ میں ان کی مضبوط موجودگی ہے۔ کار ڈرائیور نے اسے اس وقت ٹکر ماری جب وہ اپنے بائیک گروپ کے ساتھ رائیڈ پر تھی۔
شیوانی چوہان کے والد روشن چوہان نے بھی بتایا کہ پولیس کی پانچ ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں اور پولیس پوری تندہی سے کام کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا، "میری بیٹی نے مجھے اطلاع نہیں دی، وہ دراصل خوفزدہ تھی۔ مجھے اس کے بارے میں میڈیا کے ذریعہ معلوم ہوا۔ بچے ہر وقت کاریں چلاتے ہیں، وہ اسکوٹر وغیرہ چلاتے ہیں۔ میں مطمئن ہوں کہ پولیس نے فوری کارروائی کی اور اس شخص کے خلاف ایف آئی آر درج کی۔ انہوں نے ہمارا انتظار نہیں کیا، انہوں نے بہت اچھا کام کیا۔"
ادھر گروگرام گولف کورس حادثے کے کار مالک منیش نے بھی بیان دیا ہے۔ اس نے اعتراف کیا کہ لڑکی کو ٹکر مارنے والی گاڑی اس کی تھی۔ تاہم منیش کا کہنا ہے کہ ان کے دوست کلیان بینسلا نے صرف دو دن پہلے ہی کار لی تھی۔ اس واقعے کے بعد جب منیش نے اسے فون کیا تو اس نے فون کا بھی جواب نہیں دیا۔ کلیان بینسلا پلول، ہریانہ کا رہنے والا ہے اور اس پر موٹر سائیکل سوار پر لڑکی کو جان بوجھ کر مارنے کا الزام ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔