
ٹی ایم سی کی سربراہ ممتا بنرجی / آئی اے این ایس
مغربی بنگال اسمبلی میں حزب اختلاف کے قائد کی تقرری کے معاملے میں کلکتہ ہائی کورٹ نے کوئی بھی عبوری حکم جاری کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ ہائی کورٹ کی ہدایات کے مطابق اسپیکر کا فیصلہ برقرار رہے گا۔ ترنمول کانگریس کے لیڈر شوبھن دیب چٹوپادھیائے نے حزب اختلاف کے قائد کے طور پر ٹی ایم سی کے باغی رکن اسمبلی رتبرت بنرجی کی تقرری کو چیلنج کیا ہے۔
Published: undefined
ٹی ایم سی کی طرف سے حزب اختلاف قائد کے لیے 2 نام بھیجے گئے تھے۔ شوبھن دیب چٹوپادھیائے کے نام کی تجویز ٹی ایم سی قیادت کے گروپ کی طرف سے بھیجی گئی تھی، جبکہ پارٹی کے باغی اراکین اسمبلی کے گروپ نے رتبرت بنرجی کا نام بھیجا تھا، جسے مغربی بنگال اسمبلی کے اسپیکر رتھیندر بسو نے قبول کر لیا اور انہیں حزب اختلاف کا قائد مقرر کر دیا۔
Published: undefined
کلکتہ ہائی کورٹ نے جمعرات (18 جون) کو شوبھن دیب چٹوپادھیائے کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسپیکر کے فیصلے پر کوئی عبوری حکم جاری نہیں کر رہا ہے۔ جسٹس کرشنا راؤ نے فریقین کو مخالفت میں حلف نامہ داخل کرنے اور 2 ہفتوں میں جواب دینے کی ہدایت دی ہے۔ اب اگلی سماعت 28 جولائی کو ہوگی۔
Published: undefined
منگل کو سماعت کے دوران جسٹس کرشنا راؤ نے پوچھا تھا کہ اگر ایک ہی سیاسی جماعت کی طرف سے 2 الگ الگ ناموں کی تجویز بھیجی جائے، تو اسپیکر کا فرض کیا ہوگا، کیا وہ ازخود نوٹس لیتے ہوئے فیصلہ کر سکتے ہیں یا فریقین کو سماعت کا موقع دینا ضروری ہوگا۔ اس پر اسپیکر کی جانب سے پیش ہونے والے ایڈوکیٹ بلودل بھٹاچاریہ نے دلیل دی کہ مغربی بنگال اسمبلی مراعات ایکٹ، 1937 کے مطابق حزب اختلاف کا قائد وہی رکن ہوتا ہے جسے ایوان میں سب سے بڑی تعداد والی اپوزیشن پارٹی کے لیڈر کے طور پر تسلیم کیا گیا ہو۔
Published: undefined
ایڈوکیٹ بلودل بھٹاچاریہ نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر کسی پارٹی کے پاس اراکین کی تعداد یا اس کے لیڈر سے متعلق کوئی تنازعہ ہوتا ہے، تو اس معاملے میں اسپیکر کا فیصلہ آخری اور حتمی ہوگا۔ دوسری طرف اراکین اسمبلی کے جعلی دستخطوں کا معاملہ بھی سرخیوں میں ہے، جو حزب اختلاف کے قائد کی تقرری سے ہی منسلک ہے۔ الزام ہے کہ ٹی ایم سی کے رکن پارلیمنٹ اور پارٹی کے جنرل سکریٹری ابھیشیک بنرجی کی طرف سے حزب اختلاف کے قائد کے لیے بھیجے گئے شوبھن دیب چٹوپادھیائے کے نام کی تجویز پر اراکین اسمبلی کے دستخط جعلی ہیں۔
Published: undefined
جعلدی دستخط معاملے پر سب سے پہلے رتبرت بنرجی اور سندیپن ساہا نے ہی سوالات اٹھائے اور شکایت کی، جس کے بعد معاملہ گرما گیا۔ اراکین اسمبلی کی شکایت کے بعد اسمبلی سکریٹری نے ایف آئی آر درج کرائی، جس کے بعد مغربی بنگال کے کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) نے معاملے کی باقاعدہ تحقیقات شروع کر دی ہے۔ جن اراکین اسمبلی کے نام متنازعہ دستاویزات پر ہیں، ان کے بیانات درج کیے جا رہے ہیں اور دستخطوں کے نمونے بھی لیے جا رہے ہیں۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined