ڈاکٹر نریش کمار / تصویر بشکریہ ایکس / DrNareshkr@
نئی دہلی: دہلی یونیورسٹی کے انڈر گریجویٹ داخلہ فارم سے اُردو کو ہٹائے جانے اور ’مسلم‘ کو مادری زبان کے طور پر شامل کیے جانے کا معاملہ طول پکڑتا جا رہا ہے۔ اس تعلق سے سیاسی رد عمل کا سلسلہ بھی تیز ہو گیا ہے۔ دہلی کانگریس کے سینئر ترجمان ڈاکٹر نریش کمار نے اس معاملے میں اپنا تلخ رد عمل ظاہر کیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ یہ محض تکنیکی غلطی نہیں، بلکہ آئین کے بنیادی جذبات اور ملک کی گنگا جمنی تہذیب پر براہ راست حملہ ہے۔
Published: undefined
ڈاکٹر نریش کمار کا کہنا ہے کہ ’’اردو کسی ایک مذہب کی نہیں بلکہ لاکھوں ہندوستانیوں کی زبان ہے۔ اسے مذہب سے جوڑنا نہ صرف گمراہ کن ہے، بلکہ قصداً سماجی خیر سگالی کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش بھی ہے۔‘‘ انھوں نے یونیورسٹی انتظامیہ سے داخلہ فارم میں فوراً تصحیح کرنے، اس سنگین غلطی کے لیے ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کرنے، اور عوام سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔
Published: undefined
کانگریس ترجمان نے واضح لفظوں میں کہا کہ پارٹی ملک کے تنوع اور آپسی بھائی چارہ کو نقصان پہنچانے والی ہر کوشش کی مخالفت کرتی رہے گی۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’’کانگریس ہر اس سازش کے خلاف کھڑی رہے گی، جو ہندوستان کی یکجہتی اور مشترکہ وراثت کو کمزور کرنا چاہتی ہے۔‘‘
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
تصویر: پریس ریلیز