قومی خبریں

’میناکشی نٹراجن کی نامزدگی مسترد ہونا سیٹ چوری کے مترادف‘، کانگریس نے ملک گیر تحریک شروع کرنے کا کیا اعلان

وینوگوپال نے الزام عائد کیا کہ ایک طرف میناکشی کی نامزدگی معمولی بنیاد پر مسترد کر دی گئی، دوسری طرف جھارکھنڈ میں بی جے پی حمایت یافتہ کارپوریٹ امیدوار کی نامزدگی کو خامیوں کے باوجود قبول کر لیا گیا۔

<div class="paragraphs"><p>پریس کانفرنس کرتے ہوئے کے سی وینوگوپال، ویڈیو گریب</p></div>

پریس کانفرنس کرتے ہوئے کے سی وینوگوپال، ویڈیو گریب

 

مدھیہ پردیش سے راجیہ سبھا امیدوار کے طور پر میناکشی نٹراجن کی نامزدگی مسترد کیے سے کانگریس سخت ناراض ہے۔ اس معاملہ میں پارٹی جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے کہا ہے کہ کانگریس لیڈر میناکشی نٹراجن کی راجیہ سبھا نامزدگی مسترد کیا جانا ہندوستانی جمہوریت کی سنگین صورت حال کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایک طرف میناکشی کی نامزدگی معمولی بنیاد پر مسترد کر دی گئی، جبکہ دوسری طرف جھارکھنڈ میں بی جے پی کی حمایت یافتہ ایک کارپوریٹ امیدوار کی نامزدگی میں متعدد خامیوں کے باوجود اسے قبول کر لیا گیا۔ ان کے مطابق ’ووٹ چوری‘ کے بعد اب ’سیٹ چوری‘ کا دور شروع ہو گیا ہے۔

Published: undefined

قابل ذکر ہے کہ نئی دہلی میں کانگریس کے جنرل سکریٹریوں، ریاستی انچارجوں اور پردیش کانگریس کمیٹیوں کے صدور کی تقریباً 3 گھنٹے طویل میٹنگ ہوئی۔ اس میٹنگ کے بعد منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کے سی وینوگوپال نے کہا کہ میناکشی نٹراجن کے خلاف نہ کوئی فوجداری مقدمہ درج تھا، نہ کوئی ایف آئی آر تھی اور نہ ہی کوئی چارج شیٹ داخل کی گئی تھی۔ صرف ایک عدالتی نوٹس کا ذکر نہ کرنے کو بنیاد بنا کر ان کی نامزدگی مسترد کر دی گئی، جو انتہائی افسوسناک ہے۔

Published: undefined

کانگریس لیڈر نے کہا کہ جھارکھنڈ میں بی جے پی کے حمایت یافتہ امیدوار نے نامزدگی فارم کے متعلقہ خانے میں اپنا نام بھی درست طریقے سے درج نہیں کیا تھا، اس کے باوجود ریٹرننگ افسر نے ان کی نامزدگی منظور کر لی۔ دونوں معاملات کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو انتخابی عمل میں دوہرے معیار صاف نظر آتے ہیں۔ کے سی وینگوپال نے بتایا کہ پارٹی نے اس معاملے پر قانونی اور سیاسی دونوں سطحوں پر جدوجہد کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور میناکشی نٹراجن کے معاملے کو بھرپور انداز میں اٹھایا جائے گا۔

Published: undefined

کے سی وینوگوپال نے جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ اجلاس میں ملک کی موجودہ سیاسی اور معاشی صورتحال پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک اس وقت شدید معاشی بحران سے گزر رہا ہے اور عام آدمی بے پناہ مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے عوام شدید پریشانی میں مبتلا ہے، لیکن حکومت نے اس مسئلے کے حل کے لیے کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھایا۔ ساتھ ہی بے روزگاری اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے اور ملک کا مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائز (ایم ایس ایم ای) شعبہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق نوجوان اپنے مستقبل کو لے کر شدید فکرمند ہیں کیونکہ روزگار کے مواقع مسلسل کم ہوتے جا رہے ہیں۔

Published: undefined

کانگریس جنرل سکریٹری نے طلبا کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نیٹ اور سی بی ایس ای امتحانات سے متعلق تنازعات نے طلبا کو انتہائی خطرناک صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت ان مسائل پر کوئی اخلاقی ذمہ داری قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر کب تک اپوزیشن کو وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ کرنا پڑے گا۔ تعلیمی شعبے میں پیدا ہونے والے بحران نے لاکھوں طلبا اور ان کے خاندانوں کو غیر یقینی کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے۔

Published: undefined

میڈیا سے مخاطب ہوتے ہوئے وینوگوپال نے کہا کہ ملک کی صورتحال اس قدر تشویشناک ہو چکی ہے کہ ایک طرف جمہوریت کمزور ہو رہی ہے اور دوسری جانب عام لوگ اپنی روزی روٹی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق عوامی مسائل میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، لیکن حکومت ان کی جانب خاطر خواہ توجہ نہیں دے رہی۔ موجودہ حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے کانگریس لیڈر نے اعلان کیا کہ پارٹی پورے ملک میں ایک وسیع قومی مہم شروع کرنے جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مہم صرف قومی سطح تک محدود نہیں ہوگی بلکہ ریاستی، ضلعی اور بلاک سطح تک چلائی جائے گی۔ جہاں کہیں بھی عوام مشکلات کا سامنا کر رہی ہوگی، کانگریس وہاں پہنچے گی، لوگوں کے جذبات کو سمجھے گی اور ان کے حقوق کے لیے جدوجہد کرے گی۔ ان کے مطابق پارٹی صرف روایتی احتجاجی طریقوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ ان لوگوں تک پہنچے گی جو مسائل اور تکالیف سے دوچار ہیں۔ کانگریس عوام کے دکھ درد میں شریک ہونے کی کوشش کرے گی اور زیادہ سے زیادہ عوامی تحریکوں اور احتجاجی سرگرمیوں کے ذریعے ان کی آواز کو قومی سطح تک پہنچائے گی۔ انہوں نے پارٹی لیڈران اور کارکنان سے اپیل کی کہ وہ سڑکوں پر نکل کر عوامی مسائل کو اٹھائیں۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ آئندہ 2 سے 5 دنوں کے اندر اس ملک گیر مہم اور احتجاجی پروگرام کی تفصیلات کو حتمی شکل دے دی جائے گی۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined