قومی خبریں

رمن سنگھ خود ہی جال میں پھنسے: بھوپیش بگھیل

بھوپیش بگھیل نے کہا کہ انہوں نے رمن سنگھ کے خلاف کسی طرح کی کوئی تفتیش شروع نہیں کرائی، ان کی حکومت نے ہی سول سپلائی کارپوریشن  گھپلے کی تحقیقات کا حکم دیا تھا اور وہ ہی عدالت سے رجوع ہو رہے ہیں

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا 

نئی دہلی: چھتیس گڑھ کے وزیر اعلی بھوپیش بگھیل نے کہا کہ انہوں نے سابق وزیر اعلی ڈاکٹر رمن سنگھ کے خلاف کسی طرح کی کوئی تفتیش شروع نہیں کرائی ہے ، بلکہ ان کی حکومت نے سول سپلائی کارپوریشن (نان) گھپلے کی تحقیقات کا حکم دیا تھا اور اب انہوں نے اس تحقیقات کو روکنے کے لئے عدالت میں درخواست دائر کی ہے۔

Published: undefined

بگھیل نے یہاں ایک پروگرام کے موقع پر الگ سے صحافیوں کو بتایا کہ ان کی حکومت نے ڈاکٹر سنگھ کے خلاف کوئی تفتیش شروع نہیں کرائی ۔ سول سپلائی کارپوریشن کے گھپلے کی تحقیقات ان کی حکومت نے شروع کی تھی۔ نان میں ان کے دور میں ہی اس پر چھاپہ مارا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ تفتیشی افسر نے کہا تھا کہ پیسہ اس ڈومین میں گیا ہے جہاں ہم تفتیش نہیں کرسکتے ہیں۔ ہم نے اس ڈومین کی بھی چانچ کرنے کے لئے کہا ہے ، تو ڈاکٹر سنگھ کیوں پریشان ہو رہے ہیں۔

Published: undefined

وزیر اعلی نے کہا کہ ڈاکٹر سنگھ نے اس تحقیقات کو بند کرانے کے لئے ہائی کورٹ میں خصوصی اجازت عرضی دائر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملک کا یہ پہلا انوکھا معاملہ ہے جس میں تحقیقات کا آغاز کرنے والا شخص تحقیقات کو بند کرنے کا مطالبہ کررہا ہے۔

Published: undefined

ریاست کی انتظامیہ اور معیشت کے بارے میں پوچھے گئے سوالات پر ، مسٹر بگھیل نے کہا کہ گڈس اینڈ سروسس ٹیکس (جی ایس ٹی) کی وجہ سے اس سال چھتیس گڑھ کو تقریبا 3500 کروڑ روپئے ملنا چاہئے۔ اس وقت تک ، ریاست کو 1750 کروڑ روپئے کی ادائیگی ہوجانی چاہئے تھی ، لیکن اصل صورتحال یہ ہے کہ چھتیس گڑھ کو ابھی مزید نو سو کروڑ روپے لینا باقی ہے۔

کوئلہ کے رائلٹی کے فارمولے کے بارے میں مرکز کے دوہرے رویہ پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگلے تیس برسوں میں چھتیس گڑھ کو نو لاکھ کروڑ روپے کا نقصان ہوگا۔ اس کی کہیں سے تلافی کی یقین دہانی نہیں کرائی جارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت ریاست کو وہ رقم بھی نہیں دے رہی ہے جو جائز طریقے سے ملنی ہے۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined