قومی خبریں

رام مندر چندہ تنازعہ: سپریم کورٹ نے ایس آئی ٹی کی اسٹیٹس رپورٹ عام کرنے سے کیا انکار

سپریم کورٹ نے رام مندر چندہ تنازعہ میں ایس آئی ٹی کی اسٹیٹس رپورٹ عوامی کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم عدالت کے سامنے جواب دہ ہے۔ حکومت کو تین ہفتوں میں نئی رپورٹ پیش کرنا ہوگی

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ آف انڈیا</p></div>

سپریم کورٹ آف انڈیا

 

نئی دہلی: ایودھیا کے شری رام مندر میں عقیدت مندوں کی جانب سے دیے گئے چڑھاوے اور چندے کی مبینہ چوری کی آزادانہ تحقیقات کی درخواستوں پر سپریم کورٹ نے پیر کو سماعت کی۔ چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا کی بنچ نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کی اسٹیٹس رپورٹ کو عوامی کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ایس آئی ٹی سپریم کورٹ کے سامنے جواب دہ ہے اور تحقیقات شفاف و غیر جانب دار ہونی چاہئیں۔

سپریم کورٹ میں دائر درخواستوں میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ معاملے کی مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) سے آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں۔ اس کے علاوہ شری رام جنم بھومی تیرتھ کشیتر ٹرسٹ کے مالی لین دین کا کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (کیگ) یا فارنسک آڈٹ کرانے، ٹرسٹ کے تمام مالی ریکارڈ محفوظ رکھنے اور تحقیقات مکمل ہونے تک بڑے مالی فیصلوں پر روک لگانے کی بھی درخواست کی گئی ہے۔

اتر پردیش حکومت کی جانب سے پیش ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو بتایا کہ ایس آئی ٹی کی رپورٹ تیار ہے اور اب تک کی تحقیقات سے متعلق اسٹیٹس رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جا چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایس آئی ٹی کے چیئرمین بھی عدالت میں موجود ہیں۔

اس پر درخواست گزاروں کی جانب سے ایس آئی ٹی کی اسٹیٹس رپورٹ کی کاپی فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ درخواست گزاروں کے وکیل نے کہا کہ انہیں اس معاملے میں درج ایف آئی آر کا مواد تک فراہم نہیں کیا گیا ہے۔ ایک اور درخواست گزار سدھاکر سنگھ کے وکیل ستیہ سنگھ راجپوت نے مطالبہ کیا کہ اب تک حاصل ہونے والے تمام عطیات کی تفصیلات عوامی طور پر شائع کی جائیں۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ایک آزاد چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ سے کچھ رپورٹیں بھی تیار کرائی گئی ہیں، جنہیں عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

ایک درخواست گزار نے رام مندر ٹرسٹ کے موجودہ ڈھانچے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس صورت حال میں ایس آئی ٹی کی تحقیقات غیر جانب دار نہیں رہ سکتیں۔ اس پر چیف جسٹس سوریہ کانت نے واضح کیا کہ ایس آئی ٹی پر ٹرسٹ کا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔

سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ تحقیقات کے حوالے سے عدالت کی تمام ہدایات پر عمل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوجداری مقدمات کی تحقیقات کی تفصیلات عام طور پر استغاثہ اور مدعا علیہ کے درمیان شیئر کی جاتی ہیں اور کسی بیرونی فریق کو فراہم نہیں کی جاتیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ رام مندر چندہ چوری معاملے میں ایس آئی ٹی کی تشکیل خود سپریم کورٹ نے کی ہے، اس لیے وہ سپریم کورٹ کے تئیں جواب دہ ہے۔ عدالت نے تمام فریقوں کو ہدایت دی کہ وہ ایس آئی ٹی کی تحقیقات کے حوالے سے اپنی تجاویز تشار مہتا کو دے سکتے ہیں اور حکومت ان پر سنجیدگی سے غور کرے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔