قومی خبریں

رام مندر عطیات تنازعہ: کانگریس نے وزیر اعظم مودی کی خاموشی پر اٹھائے سوال، ٹرسٹ تحلیل کرنے کا مطالبہ

کانگریس نے رام مندر عطیات تنازعہ پر وزیر اعظم مودی کی خاموشی پر سوال اٹھاتے ہوئے ٹرسٹ کو تحلیل کرنے، ملزم ارکان کی گرفتاری اور سپریم کورٹ کی نگرانی میں غیر جانبدارانہ جانچ کا مطالبہ کیا

<div class="paragraphs"><p>تصویر ویڈیو گریب</p></div>

تصویر ویڈیو گریب

 

نئی دہلی: رام مندر عطیات تنازعہ پر کانگریس نے وزیر اعظم نریندر مودی کی خاموشی پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ اتر پردیش کی حکومت معاملے کی غیر جانبدارانہ جانچ کے بجائے اصل ذمہ داروں کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ پارٹی نے مطالبہ کیا کہ سنگین الزامات کا سامنا کرنے والے شری رام جنم بھومی تیرتھ کشیتر ٹرسٹ کے ارکان کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے، تاکہ وہ جانچ اور شواہد پر اثر انداز نہ ہو سکیں، اور پورے معاملے کی نگرانی سپریم کورٹ کے حاضر سروس جج سے کرائی جائے۔

Published: undefined

کانگریس کے ترجمان اکھلیش پرتاپ سنگھ نے پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کے بعد درج کی گئی ایف آئی آر میں صرف نچلے درجے کے ملازمین کو نامزد کیا گیا ہے، جبکہ اصل ذمہ داروں کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ٹرسٹ کے بااثر افراد کے خلاف فوری کارروائی نہ کی گئی تو شواہد متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

اکھلیش پرتاپ سنگھ نے کہا کہ اس تنازعہ کے بعد ملک بھر کے عوام اور بھگوان شری رام کے عقیدت مندوں کا ٹرسٹ پر اعتماد متزلزل ہو گیا ہے، اس لیے اسے فوری طور پر تحلیل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ زمین کی خرید و فروخت، تعمیراتی کاموں میں مبینہ کمیشن، سونے اور چاندی کی اینٹوں، زیورات اور عطیات کی رقم سے متعلق سنگین بے ضابطگیوں کی غیر جانبدارانہ جانچ ناگزیر ہے۔

Published: undefined

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے خود اپنی پسند کے افراد کو ٹرسٹ میں شامل کیا تھا، اس لیے جب انہی افراد پر سنگین الزامات عائد ہو رہے ہیں تو وزیر اعظم کی خاموشی کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ ان کے مطابق جن لوگوں کو کروڑوں عقیدت مندوں کے اعتماد کی ذمہ داری سونپی گئی تھی، ان کے خلاف سامنے آنے والے الزامات پر حکومت کو اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہیے۔

کانگریس ترجمان نے کہا کہ 2019 میں عدالتی فیصلے کے بعد مندر کی تعمیر کی راہ ہموار ہوئی اور 2020 میں مرکزی حکومت نے ٹرسٹ تشکیل دیا، لیکن اس کے بعد مختلف مراحل پر بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آتے رہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ زمین کے سودوں میں بے قاعدگیوں کی جانچ کا اعلان تو کیا گیا، مگر اس کا کوئی واضح نتیجہ آج تک سامنے نہیں آیا۔

Published: undefined

انہوں نے حالیہ میڈیا رپورٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نقد عطیات گننے والے ایجنٹ مہیپال سنگھ کو [معاملہ سامنے لانے پر ہٹا دیا گیا، جبکہ نگرانی کے کیمروں کی ریکارڈنگ بھی حذف کر دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ابتدا میں ٹرسٹ کے سکریٹری چمپت رائے نے کسی بڑی بے ضابطگی سے انکار کیا، لیکن بعد میں ٹرسٹ کے ایک سینئر رکن نے اسے بدعنوانی نہیں بلکہ ڈکیتی قرار دیا۔ اکھلیش پرتاپ سنگھ نے مزید کہا کہ چمپت رائے اور انل مشرا کے استعفوں سے متعلق خبروں اور بعد ازاں ان کی تردید نے بھی پورے معاملے پر مزید شکوک و شبہات پیدا کر دیے ہیں۔

Published: undefined

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined