
رام مندر میں نذرانہ اور چندہ کی مبینہ چوری کے معاملے کی تحقیقات کے دوران خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کو مزید ایک اہم سراغ ملا ہے۔ تفتیش میں سامنے آیا ہے کہ گرفتار ملزم رام شنکر یادو عرف ٹنّو نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر وی آئی پی درشن کے نام پر منظم وصولی کا ایک نیٹورک قائم کر رکھا تھا۔ الزام ہے کہ یہ گروہ عقیدت مندوں سے لاکھوں روپے وصول کرتا تھا اور روزانہ جمع ہونے والی رقم آپس میں تقسیم کر لیتا تھا۔
Published: undefined
کچھ میڈیا رپورٹس میں ذرائع کے حوالہ سے بتایا گیا ہے کہ رام مندر میں پران پرتشتھا کے بعد عقیدت مندوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہونے کے ساتھ ہی وی آئی پی درشن کے نام پر غیر قانونی وصولی کا یہ کھیل بھی بڑے پیمانے پر شروع ہو گیا تھا۔ ایس آئی ٹی کی تحقیقات میں اشارے ملے ہیں کہ اس نیٹورک میں صرف گرفتار ملزمین ہی نہیں بلکہ مندر کے بعض دیگر ملازمین اور بیرونی افراد بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ تحقیقاتی ایجنسیاں اب ان تمام افراد کے کردار کی جانچ کر رہی ہیں۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ رام مندر میں درشن کے لیے مختلف انتظامات موجود ہیں۔ عام عقیدت مندوں کو طویل قطاروں میں کھڑے ہو کر درشن کرنا پڑتا ہے، جبکہ پروٹوکول کے تحت آنے والے معزز مہمانوں کو وی آئی پی پاس کے ذریعہ کم وقت میں درشن کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ یہ پاس شری رام جنم بھومی تیرتھ کشیتر ٹرسٹ کی جانب سے مکمل طور پر مفت جاری کیے جاتے ہیں۔ ایس آئی ٹی کے مطابق بعض افراد نے مبینہ طور پر اسی نظام کا غلط استعمال کیا۔ عقیدت مندوں کو جلد اور آسان درشن کرانے کا یقین دلا کر ان سے بھاری رقم وصول کی جاتی تھی۔ تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ وصول کی گئی رقم باقاعدگی سے گروہ کے اراکین کے درمیان تقسیم کی جاتی تھی۔ تحقیقاتی ایجنسیاں اب اس مبینہ ریکٹ سے متعلق مالی لین دین، موبائل کال کی تفصیلات، بینک کھاتوں اور دیگر دستاویزات کی جانچ کر رہی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ چند دنوں میں اس معاملے میں بعض مزید ملازمین اور بیرونی افراد کے خلاف بھی کارروائی ہو سکتی ہے۔
Published: undefined
رام مندر میں نذرانہ و عطیات کی مبینہ چوری کے معاملے میں ٹنو یادو پر اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کا الزام ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ سوال بھی اٹھ رہے ہیں کہ یہاں آڈٹ اور نگرانی کی ذمہ داری کس کے پاس تھی؟ اس معاملے میں ایس آئی ٹی نے چمپت رائے سے بھی کئی گھنٹوں تک پوچھ گچھ کی۔ انہوں نے اپنی جانب سے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ اس معاملے پر وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) کے بین الاقوامی صدر آلوک کمار نے کہا کہ ایودھیا کے رام مندر میں نذرانہ کی چوری کے لیے وشو ہندو پریشد ذمہ دار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنظیم اپنے نائب صدر چمپت رائے کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کرنے سے پہلے اس معاملے کی تحقیقات مکمل ہونے کا انتظار کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مندر میں ہونے والی یہ لوٹ انتہائی افسوسناک ہے۔ اس سے دنیا بھر کے ہندوؤں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ اس کے لیے کوئی بہانہ بنانے یا دفاع کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ہم سب چاہتے ہیں کہ پولیس اور ایس آئی ٹی ہر پہلو اور ہر اس شخص کی انتہائی باریک بینی سے تحقیقات کریں جن پر کوئی بھی الزام عائد کیا گیا ہو، خواہ وہ کوئی بھی ہو۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined