قومی خبریں

سادھویوں کی عصمت دری اور قتل کے مجرم رام رحیم کو 5 ماہ میں دوسری بار ملی پیرول، 30 دنوں کے لیے پھر جیل سے باہر

رام رحیم جیل میں 20 سال کی سزا کاٹ رہا ہے۔ اسے 2017 میں اسپیشل سی بی آئی کورٹ نے 2 سادھویوں کی عصمت دری کا مجرم ٹھہرایا تھا۔ اس کے بعد اسے 2 قتل معاملوں میں بھی قصوار وار ٹھہرایا گیا تھا۔

<div class="paragraphs"><p>گرمیت رام رحیم</p></div>

گرمیت رام رحیم

 
تصویر آئی اے این ایس

سرسا کے ڈیرہ سچا سودا کے سربراہ گرمیت رام رحیم کو ایک بار پھر پیرول مل گئی ہے۔ رام رحیم روہتک کی سناریا جیل میں سادھویوں کی عصمت دری کے معاملے میں سزا کاٹ رہا ہے۔ اس بار اسے 30 دن کی پیرول دی گئی ہے۔ منگل کی صبح تقریباً 7 بجے گرمیت رام رحیم سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان سرسا آشرم کے لئے روانہ ہوا۔ اس سال یہ اس کی دوسری پیرول ہے۔ اس سے پہلے وہ 15 بار پیرول اور ’فرلو‘ لے چکا ہے اور سزا کے دوران یہ اب اس کی 16 ویں پیرول ہے۔ رام رحیم نے اب تک اپنی 3 ہزار 193 دنوں کی سزا میں سے 406 دن روہتک کی سناریا جیل کی چہار دیواری سے باہر گزارے ہیں۔

Published: undefined

رام رحیم سناریا جیل میں 20 سال کی سزا کاٹ رہا ہے۔ اسے 2017 میں ایک اسپیشل سی بی آئی کورٹ نے 2 ششیاؤں (خواتین شاگرد) کی عصمت دری کا مجرم ٹھہرایا تھا۔ اس کے بعد اسے 2 قتل معاملوں میں بھی قصوار وار ٹھہرایا گیا تھا۔ 2019 میں صحافی رام چندر چھترپتی کے قتل کے لیے اسے عمر قید کی سزا ملی۔ 2021 میں ڈیرہ سچا سودا کے منیجر رنجیت سنگھ کے قتل کی سازش کرنے کے لیے اسے سزا سنائی گئی۔ حالانکہ پنجاب، ہریانہ ہائی کورٹ نے اسے 2024 میں رنجیت سنگھ قتل کیس میں اور 2026 میں صحافی رام چندر چھترپتی قتل کیس میں بری کر دیا۔

Published: undefined

30 دن کی پیرول ملنے کے ساتھ ہی ڈیرہ سچا سودا کے سربراہ نے 2026 کے لیے اپنے 10 ہفتے کے پیرول کے وقت کو پورا کر لیا ہے۔ یہ ہریانہ گڈ کنڈکٹ پریزنرز (ٹیمپریری ریلیز) ایکٹ، 2022 کے تحت ضروری ہے۔ اس سے پہلے جنوری میں اسے 40 دن کی پیرول دی گئی تھی۔ یہ قانون کسی بھی قیدی کو جنوری سے دسمبر میں مجموعی طور پر 10 ہفتے کی پیرول کا حق دیتا ہے جسے 2 حصوں میں لیا جا سکتا ہے۔ یہ قانون 3 ہفتے کی ’فرلو‘ (عارضی رہائی) کی بھی اجازت دیتا ہے۔ اس رہائی کو کئی حصوں میں نہیں لیا جا سکتا۔ حالانکہ ڈیرہ سربراہ اس سال 3 ہفتے کی فرلو لے سکتا ہے۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined