قومی خبریں

رام مندر چندہ چوری: سپریم کورٹ نے نگرانی بند کی، مجسٹریٹ کو کارروائی کرنے کا دیا حکم

سپریم کورٹ نے پہلے تحقیقات کی پیش رفت پر نظر رکھی تھی اور اتر پردیش حکومت کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) سے رپورٹ طلب کی تھی۔ اب چارج شیٹ داخل ہونے کے بعد عدالت نے عرضیوں کو نمٹا دیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ آف انڈیا</p></div>

سپریم کورٹ آف انڈیا

 

ایودھیا کے رام مندر میں عقیدت مندوں کی جانب سے دیے گئے عطیات کی مبینہ چوری اور مالی بے ضابطگیوں سے منسلک معاملات میں سپریم کورٹ نے اہم فیصلہ سنایا ہے۔ یوپی پولیس کی جانب سے معاملے میں چارج شیٹ داخل کیے جانے کی جانکاری ملنے کے بعد سپریم کورٹ نے اس معاملے سے متعلق عرضیوں کو نمٹا دیا ہے۔ یہ عرضیاں معاملے کی آزادانہ تحقیقات اور سی بی آئی تحقیقات کے مطالبے کو لے کر داخل کی گئی تھیں۔

چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) جسٹس سوریہ کانت کی صدارت والی سہ رکنی بنچ نے کہا کہ اب متعلقہ مجسٹریٹ عدالت قانون کے مطابق آگے کی کارروائی کرے۔ حالانکہ عدالت نے مفاد عامہ کو مدنظر رکھتے ہوئے عرضی گزاروں کو مجسٹریٹ کے سامنے جاری مجرمانہ کارروائی میں تعاون کرنے کی اجازت دی ہے۔ سماعت کے دوران یوپی حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ کو بتایا گیا کہ معاملے کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد چارج شیٹ داخل کی جا چکی ہے۔ اس کے بعد عدالت نے معاملے کی نگرانی جاری رکھنے کے بجائے عرضیوں کو نمٹا دیا۔

بنچ نے کہا کہ یہ صرف ملزم اور ریاست کے درمیان کا معاملہ نہیں ہے بلکہ اس میں مفاد عامہ کا بھی پہلو شامل ہے۔ اس لیے عرضی گزاروں کو اسی طرح مجسٹریٹ کا تعاون کرنے کی اجازت دی جاتی ہے، جس طرح قانون کسی جرم کے متاثرہ کو مجرمانہ کارروائی میں عدالت کا تعاون کرنے کا حق دیتا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اس نے معاملے میں عائد کیے گئے الزامات کی سچائی یا ان کے میرٹ پر کوئی رائے نہیں دی ہے۔ اب مجسٹریٹ عدالت چارج شیٹ اور دستیاب ثبوتوں کی بنیاد پر قانون کے مطابق آگے کی کارروائی کرے گی۔

واضح رہے کہ ایودھیا واقع شری رام جنم بھومی مندر میں عقیدت مندوں کی جانب سے دیے گئے عطیات کی مبینہ چوری اور مالی بے ضابطگیوں کا معاملہ سامنے آیا تھا۔ اس کے متعلق سپریم کورٹ میں کئی عرضیاں داخل کی گئی تھیں۔ عرضی گزاروں نے معاملے کی سی بی آئی تحقیقات کرانے، آزاد تحقیقاتی ایجنسی تشکیل دینے اور مندر ٹرسٹ کے مالی لین دین کی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔ سماعت کے دوران سپریم کورٹ کو بتایا گیا تھا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کی بنیاد پر تحقیقات میں عطیے کی نقد رقم مبینہ طور پر بغیر اجازت نکالنے کے 105 واقعات کا پتہ چلا ہے۔ تحقیقات میں 8 ملزمان کے کردار سامنے آنے کی بات کہی گئی تھی۔ سپریم کورٹ نے پہلے تحقیقات کی پیش رفت پر نظر رکھی تھی اور اتر پردیش حکومت کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) سے رپورٹ طلب کی تھی۔ اب چارج شیٹ داخل ہونے کے بعد عدالت نے عرضیوں کو نمٹا دیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔