رام مندر، تصویر سوشل میڈیا
سپریم کورٹ نے ایودھیا کے شری رام جنم بھومی تیرتھ کشیتر ٹرسٹ سے متعلق مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور چندے کے انتظام میں بے قاعدگیوں کے الزامات پر دائر متعدد عرضیوں کو سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے 13 جولائی کی تاریخ مقرر کر دی ہے۔ ان عرضیوں پر چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کی سربراہی میں قائم بنچ سماعت کرے گی، جس میں جسٹس جوئے مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا بھی شامل ہیں۔
عرضیوں میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ مندر میں موصول ہونے والے چندے اور عطیات کے انتظام میں مالی بے ضابطگیوں کے شواہد سامنے آئے ہیں، اس لیے پورے معاملے کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ جانچ کرائی جائے۔ عرضی گزاروں نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی تفتیش مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کے سپرد کی جائے، خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جائے اور ٹرسٹ کے مالی معاملات کا جائزہ لینے کے لیے آزاد ماہرین پر مشتمل کمیٹی قائم کی جائے۔
سپریم کورٹ اس سے قبل تعطیلات کے دوران ان عرضیوں کو فوری سماعت کے لیے فہرست بند کرنے کی درخواست مسترد کر چکی تھی۔ اسی نوعیت کی بعض عرضیاں الٰہ آباد ہائی کورٹ میں بھی زیر سماعت ہیں۔ دوسری جانب ریاستی حکومت کی جانب سے قائم خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی جانچ کے بعد اتر پردیش پولیس اس معاملے میں مقدمہ درج کر چکی ہے اور اب تک آٹھ افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔
ایک عرضی نریندر کمار گوسوامی کی جانب سے دائر کی گئی ہے، جس میں شری رام جنم بھومی تیرتھ کشیتر ٹرسٹ کے مالی ریکارڈ کی مرکزی تفتیشی بیورو سے جانچ کرانے اور ٹرسٹ کے کھاتوں کا آڈٹ کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل سے کرانے کی درخواست کی گئی ہے۔ دوسری عرضی اجے کمار رائے اور دنیش کمار یادو نے دائر کی ہے، جس میں بھی مبینہ مالی بے ضابطگیوں کی جانچ مرکزی تفتیشی بیورو سے کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
تیسری عرضی راشٹریہ جنتا دل کے رکن پارلیمان سدھاکر سنگھ کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔ اس میں سپریم کورٹ کی نگرانی میں مرکزی تفتیشی بیورو سے جانچ، ٹرسٹ کے تمام مالی ریکارڈ کا فارنسک آڈٹ اور مالی دستاویزات، ڈیجیٹل لیجر، متحدہ ادائیگی نظام کے لین دین کے ریکارڈ اور بینک گوشواروں کو محفوظ رکھنے کی ہدایت جاری کرنے کی اپیل کی گئی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ چھیڑ چھاڑ کو روکا جا سکے۔
عرضیوں میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ جانچ مکمل ہونے تک ٹرسٹ کسی بھی بڑے مالی فیصلے، اہم معاہدے، سرمایہ کاری یا جائیداد سے متعلق فیصلہ مجوزہ نگرانی کمیٹی کی منظوری کے بغیر نہ کرے۔ اس کے علاوہ ٹرسٹ کو اپنے قیام سے اب تک موصول ہونے والے تمام چندوں اور عطیات کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے پیش کرنے کی بھی درخواست کی گئی ہے، جن میں نقد عطیات، بینک کے ذریعے منتقل کی گئی رقوم، ڈیجیٹل ادائیگیاں، غیر ملکی عطیات، اشیاء کی صورت میں موصول ہونے والے عطیات، سونا، چاندی اور دیگر قیمتی اشیا شامل ہوں۔ عرضی گزاروں نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ ٹرسٹ اپنی سرکاری ویب سائٹ پر آڈٹ رپورٹ، مالی گوشوارے اور عطیات کے استعمال سے متعلق معلومات شائع کرے، تاہم عطیہ دہندگان کی ذاتی اور حساس معلومات کی رازداری برقرار رکھی جائے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔