
راجستھان کا یومِ تاسیس
راجستھان کے یومِ تاسیس کے موقع پر کانگریس کے سرکردہ رہنماؤں نے ریاست کی شاندار تاریخ، ثقافتی ورثے اور سماجی ہم آہنگی کو سراہتے ہوئے عوام کو مبارکباد پیش کی اور مستقبل میں ترقی و خوشحالی کے عزم کا اعادہ کیا۔
کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے اپنے پیغام میں راجستھان کو عظیم بہادروں کی سرزمین قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ریاست اپنی تاریخی اہمیت، فن و ثقافت، مہمان نوازی اور سیاحت کے لیے پورے ملک میں نمایاں مقام رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ راجستھان کی درخشاں روایت ہم سب کے لیے باعثِ تحریک ہے اور انہیں یقین ہے کہ یہ دھرتی آئندہ بھی ملک کی ترقی اور خوشحالی میں اہم کردار ادا کرتی رہے گی۔
Published: undefined
اسی طرح لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے سینئر لیڈر راہل گاندھی نے بھی راجستھان کے عوام کو یومِ تاسیس کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ ریاست اپنی متنوع ثقافت، قدیم روایات اور شاندار تاریخ کی وجہ سے ہندوستان کا ایک قیمتی سرمایہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ یہاں کی تہذیب اور وراثت پورے ملک کے لیے باعثِ فخر ہے۔
Published: undefined
راجستھان کے سابق وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے اپنے پیغام میں ریاست کی بہادری، وراثت اور ترقی پسند روایت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے اس موقع پر عوام سے اپیل کی کہ وہ سماجی ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنانے، بھائی چارے کو فروغ دینے اور ترقی میں ہر طبقے کی شمولیت کو یقینی بنانے کا عہد کریں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ریاست کے ہر فرد تک معیاری صحت سہولیات اور بہتر تعلیم کی رسائی یقینی بنائی جائے۔
Published: undefined
کانگریس کے سینئر رہنما سچن پائلٹ نے بھی اپنے پیغام میں راجستھان کو بہادری، خودداری اور قربانی کی سرزمین قرار دیتے ہوئے عوام کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ اس موقع پر سب کو مل کر ریاست کو مضبوط، ترقی یافتہ اور خوشحال بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
Published: undefined
واضح رہے کہ 30 مارچ 1949 کو تاریخی طور پر مختلف ریاستوں کے انضمام کے بعد وسیع تر راجستھان یونین قائم کی گئی تھی۔ اس سے قبل یہ علاقہ ’راجپوتانہ‘ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ مجموعی طور پر 19 ریاستوں کے تدریجی انضمام کے بعد اس خطے کو راجستھان کا نام دیا گیا۔
Published: undefined
راجستھان کا اتحاد سات مراحل میں مکمل ہوا، جس کا آغاز 1948 میں الور، دھولپور، کرولی اور بھرت پور جیسی ریاستوں کے انضمام سے ہوا، جبکہ آخری مرحلے میں جیسلمیر، جودھ پور، جے پور اور بیکانیر جیسی ریاستوں کو شامل کیا گیا۔ اسی تاریخی پس منظر کی بنیاد پر ہر سال 30 مارچ کو راجستھان یومِ تاسیس منایا جاتا ہے، جو ریاست کی یکجہتی، ثقافتی شناخت اور ترقی کے سفر کی علامت ہے۔ اس دن کو نہ صرف ماضی کی یاد تازہ کرنے بلکہ مستقبل کے عزم کو مضبوط کرنے کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined