
رجنی پاٹل، تصویر آئی اے این ایس
کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں حزب مخالف لیڈر ملکارجن کھڑگے نے کانگریس رکن پارلیمنٹ رجنی پاٹل کی راجیہ سبھا سے معطلی مانسون اجلاس تک بڑھائے جانے پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے جمعرات کو اس سلسلے میں راجیہ سبھا چیئرمین جگدیپ دھنکھڑ کو خط لکھ کر کہا کہ ان کا یہ قدم پارلیمانی امور اور روایات کی خلاف ورزی ہے۔
اس سے قبل جگدیپ دھنکھڑ نے کہا کہ رجنی پاٹل معاملے کی جانچ کر رہی استحقاق کمیٹی سے اِن پٹ لینے کے بعد ایوان کی کارروائی فلمانے کے لیے پاٹل کی معطلی بجٹ اجلاس سے آگے بڑھا دی گئی ہے۔ انھوں نے یہ بھی جانکاری دی کہ کمیٹی نے 27 مارچ کو ہوئی اپنی میٹنگ میں جانچ پوری کرنے کے لیے مانسون اجلاس کے پہلے ہفتہ تک کا وقت مانگا تھا۔
اس پورے معاملے میں کھڑگے نے جگدیپ دھنکھڑ کو خط لکھ کر رجنی پاٹل کی معطلی کو بڑھانے کی تنقید کرتے ہوئے یہ الزام بھی عائد کیا کہ اس قدم سے ایک مخلص خاتون رکن پارلیمنٹ کی بے عزتی ہو رہی ہے۔ انھوں نے خط میں لکھا ہے کہ ’’میں اس حالت میں اپنی طرف سے ناراضگی ظاہر کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ خط میں کھڑگے نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’’میں آپ کی طرف سے رجنی پاٹل کی معطلی مانسون اجلاس تک بڑھائے جانے سے تکلیف میں ہوں۔ آپ کو یاد ہوگا کہ آج صبح 13 پارٹیوں کے ایوان کے لیڈران نے آپ سے مل کر گزارش کی تھی کہ رجنی پاٹل کی معطلی رد کی جائے، لیکن آپ نے اس اجتماعی گزارش کو نظر انداز کر دیا۔‘‘ علاوہ ازیں کھڑگے نے دعویٰ کیا کہ رجنی کی معطلی بجٹ اجلاس سے آگے تک بڑھایا جانا پارلیمانی امور و روایات کی خلاف ورزی ہے۔
کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل سے کانگریس صدر کھڑگے کے ذریعہ جگدیپ دھنکھڑ کو لکھے خط کی کاپی شیئر کی ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے لکھا ہے کہ ’’میری ساتھی رجنی پاٹل راجیہ سبھا سے معطل ہیں۔ حزب مخالف لیڈر اور کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے راجیہ سبھا چیئرمین کو اس سنگین ناانصافی پر خط لکھا ہے۔‘‘
دوسری طرف راجیہ سبھا سے اپنی معطلی کا وقفہ بڑھائے جانے پر رجنی پاٹل نے کہا کہ راجیہ سبھا چیئرمین جگدیپ دھنکھڑ کے اپنے اختیارات ہیں اور وہ ان کا استعمال کر سکتے ہیں۔ لیکن رکن پارلیمنٹ ہونے کے ناطے میرے اختیارات کا کیا؟ پارلیمنٹ اجلاس ختم ہو گیا ہے، لیکن میری معطلی ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔ مجھے امید ہے کہ چیئرمین میرے ساتھ انصاف کریں گے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔