قومی خبریں

کئی ریاستوں میں بارش کا قہر جاری، اتراکھنڈ میں 7 اموات، یوپی کی ندیوں میں طغیانی، جھارکھنڈ کے 10 اضلاع میں فلیش فلڈ الرٹ

پہاڑی علاقوں میں ملبہ جمع ہونے کی وجہ سے سڑکیں متاثر ہو رہی ہیں اور کئی مقامات پر ’فلیش فلڈ‘ کا خطرہ لاحق ہے۔ انتظامیہ، پولیس اور ’ایس ڈی آر ایف‘ کی ٹمیں راحت رسانی کے کاموں میں مصروف ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>اتراکھنڈ سیلاب</p></div>

اتراکھنڈ سیلاب

 

ملک کے مختلف حصوں میں مسلسل ہو رہی بارش کے سبب لوگوں کو بہت زیادہ پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اتراکھنڈ میں بارش، لینڈ سلائیڈنگ اور تیز بہاؤ سے متعلق مختلف حادثوں میں اب تک 7 افراد کی موت ہو چکی ہے۔ ریاست میں 172 سے زیادہ سڑکیں بند ہیں، جن میں پتھورا گڑھ، نینی تال اور باگیشور کے ہائیوے بھی شامل ہیں۔ پہاڑی علاقوں میں ملبہ جمع ہونے کی وجہ سے سڑکیں متاثر ہو رہی ہیں اور کئی مقامات پر ’فلیش فلڈ‘ کا خطرہ لاحق ہے۔ انتظامیہ، پولیس اور ایس ڈی آر ایف کی ٹمیں راحت رسانی کے کاموں میں مصروف ہیں۔ وہیں اتر پردیش اور جھارکھنڈ میں بھی ندیوں کی بڑھتی ہوئی آبی سطح اور بارش نے حالات خراب کر دیے ہیں۔

اترا کھنڈ کے الموڑا، باگیشور، ٹہری، نینیتال، ادھم سنگھ نگر اور پوڑی میں بارش سے متعلق حادثوں نے انتظامیہ کی پریشانیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ کئی مقامات پر جے سی بی اور دیگر مشینوں کی مدد سے ملبہ ہٹایا جا رہا ہے اور سڑکیں کھولی جا رہی ہیں۔ ہلدوانی سے گولا ندی میں تقریباً 27 ہزار کیوسک پانی چھوڑے جانے کے بعد ادھم سنگھ نگر کے کیچھا، پل بھٹہ، شانتی پوری اور سوریہ نگر میں لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے لوگوں کو ندی سے دور رہنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔ پانی جمع ہو جانے کی وجہ سے کئی علاقوں میں ڈگری کالج اور ہفتہ وار بازار بھی متاثر ہوئے ہیں۔ کھٹیما کے ونگاؤں میں کھکرا ندی کی آبی سطح بڑھنے کی وجہ سے دو درجن سے زائد خاندان متاثر ہوئے ہیں۔ انتظامیہ، ایس ڈی آر ایف اور پولیس نے کچھ کنبوں کو کیمپوں میں پہچایا ہے۔ رگھولیا پرائمری اسکول کو ریلیف کیمپ میں تبدیل کردیا گیا ہے، جہاں متاثرین کو کھانا، پانی اور ضروری خدمات مہیا کرائی جا رہی ہیں۔

پوڑی کے کوٹ دوار میں کولہو ندی سے گزرتے ہوئے دیڑھ برس کی عافیہ تیز بہاؤ میں اپنی والدہ زینب کی گود سے بہہ گئی اور 26 سالہ ماں بھی بچی کو بچانے کی کوشش میں بہہ گئی۔ ایس ڈی آر ایف اور پولیس نے دونوں کی لاشیں بر آمد کر لی ہیں۔ باگیشور میں شدید بارش اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے این ایچ-109 سمیت 16 شاہراہیں بند ہیں۔ روائیکھال میں سڑک بند ہونے کی وجہ سے ایمبولنس، بسیں اور ٹیکسی سمیت سیکڑوں گاڑیاں گھنٹوں پھنسی رہیں۔ مریض کو بیجناتھ لے جا رہی ایمبولنس بھی تقریباً دیڑھ گھنٹے تک جام میں پھنسی رہی۔ نینیتال میں کوسی اور شپرا ندیوں میں طغیانی ہے۔ گرمپانی، کھیرنا، بیتال گھاٹ اور رام نگر میں ندی کے کنارے رہنے والے لوگوں کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔ کینچی دھام کے قریب شپرا ندی کی آبی سطح میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ہلدوانی کے رانی باغ میں چترشیلا گھاٹ پر گولا ندی کی آبی سطح میں تیزی سے اضافے کی وجہ سے آخری رسومات کے لیے رکھی گئیں لاشیں بھی تیز بہاؤ کی زد میں آگئیں اور جس کی وجہ سے گھاٹ پر افرا تفری کا ماحول پیدا ہو گیا۔

ٹہری میں شدید بارش کے بعد این ایچ-34 سمیت کئی سڑکوں پر پہاڑوں سے پانی کے ساتھ ساتھ ملبہ بھی آیا۔ گھنسالی اور بالگنگا علاقوں میں مٹی کے تودے گرنے کی وجہ سے کئی مکانات خطرے میں ہیں۔ انتظامیہ راحت رسانی کے کاموں میں مصروف ہے اور متاثرہ علاقوں میں ارضیاتی ماہرین کی ٹیم بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔ چمولی میں تھرالی-دیوال سڑک لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے بند ہے۔ سون پریاگ میں مسلسل بارش کی وجہ سے کیدارناتھ یاترا روک دی گئی ہے۔ مسوری- دہرادون شاہراہ بھی پانی والا بینڈ کے قریب سڑک دھنسنے کی وجہ سے بار بار بند کی جا رہی ہے۔ ملبہ ہٹا کر فی الحال راستہ کھول دیا گیا ہے، لیکن مسلسل بارش کی وجہ سے دوبارہ راستہ متاثر ہونے کا خطرہ لاحق ہے۔ الموڑا میں مختلف حادثوں کی وجہ سے 5 افراد کی موت ہوئی ہے۔ ہوال باغ کے ادیوڑا گاؤں میں مکان پر ملبہ گرنے کی وجہ سے 2 خواتین اور ایک معصوم بچے کی موت ہوئی ہے۔ دھار میں واقع ٹونی علاقے میں ملبے میں دبنے کی وجہ سے 2 نیپال مزدوروں کی موت کی خبر ہے۔ ایس ڈی آر ایف اور پولیس کی ٹیمیں راحت بچاؤ میں لگی ہوئی ہیں۔ شدید بارش کے الرٹ کے مدنظر نینیتال، چمپاوت، ادھم سنگھ نگر اور پتھورا گڑھ میں 2 ستمبر کو پہلی جماعت سے 12 ویں جماعت کے اسکولوں اور آنگن واڑی مراکز بند رکھنے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔

اتر پردیش میں بھی شدید بارش اور ندیوں میں بڑھتی ہوئی آبی سطح نے حالات خراب کر دیے ہیں۔ سیتاپور میں منگل کے روز مکان میں مٹی کی دیوار گرنے کی وجہ سے 2 لوگوں کی موت ہو گئی۔ غازی پور میں گنگا میں نہانے کے وقت 2 نابالغ لڑکیاں بہہ گئیں، جن کی تلاش جاری ہے۔ بلیا میں گنگا کا پانی کئی رہائشی علاقوں تک پہنچ گیا ہے اور تقریباً 20 ہزار لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ راحت اور آمد و رفت کے لیے 47 کشتیاں لگائی گئی ہیں۔ انتظامیہ کے مطابق گنگا خطرے کے نشان سے تقریباً 1.60 میٹر اوپر بہہ رہی ہے اور بدھ کی صبح تک آبی سطح میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ گنگا کے کنارے واقع گاؤں میں الرٹ بڑھا دیا گیا ہے۔ این ڈی آر ایف اور پی اے سی کی ٹیمیں راحت بچاؤ میں مصروف ہیں، جبکہ متاثرین کے لیے راحت کیمپ اور کمیونٹی کچن شروع کیے گئے ہیں۔ وارانسی میں گنگا وارننگ لیول کو پار کر چکی ہے۔ پانی جمع ہونے کی وجہ سے کئی علاقوں میں کشتیوں کے ذریعے آمد و رفت کی جا رہی ہے۔ منی کرنیکا اور ہریش چندر گھاٹ پر پانی بھر جانے کے بعد آخری رسومات چھتوں اور گلیوں میں ادا کی جا رہی ہیں۔ ورونا ندی کے کنارے رہنے والے کچھ خاندانوں کو راحت کیمپوں میں پہنچایا گیا ہے۔ چترکوٹ میں منداکنی ندی خطرے کے نشان سے تقریباً 4 میٹر اوپر بہہ رہی ہے۔ رام گھاٹ، نرموہی اکھاڑہ سمیت کئی علاقے پانی جمع ہونے سے متاثر ہیں۔ رام گھاٹ اور نیا گاؤں کو جوڑنے والا پل بھی متاثر ہوا ہے۔ ایس ڈی آر ایف اور این ڈی آر ایف  کی ٹیمیں پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالنے میں مصروف ہیں اور کچھ لوگوں کو فوج کے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے محفوظ نکالا گیا ہے۔ لکھیم پور کھیری میں جماعت 8 تک کے تمام تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے ہیں۔ شاردا ندی میں آبی سطح بڑھنے سے میلانی-نانپارہ ریلوے سیکشن پر ٹرین خدمات بھی متاثر ہوئی ہیں۔

جھارکھنڈ میں شدید بارش کے بعد گڑھوا، پلامو، لاتیہار، لوہردگا، گملا، کھنٹی، سرائیکیلا-کھرساواں، مغربی سنگھ بھوم، مشرقی سنگھ بھوم اور سمڈیگا میں بدھ کی صبح تک سیلاب کے سلسلے میں خصوصی چوکسی برقرار رکھنے کو کہا گیا ہے۔ ریاست میں سب سے زیادہ 217 میلی میٹر بارش مشرقی سنگھ بھوم کے ڈوموریہ میں درج کی گئی ہے۔ گریڈیہہ کے ڈمری میں  162.2 میلی میٹر اور لاتیہار مہواتاڑ میں 146.2 میلی میٹر بارش ہوئی۔ آئی ایم ڈی نے گڑھوا، پلامو، سمڈیگا اور مغربی سنگھ بھوم کے لیے ریڈ الرٹ، جبکہ لاتیہار، لوہردگا، گملا، کھونٹی اور سرائے کیلا-کھرساواں کے لیے اورنج الرٹ جاری کیا ہے۔ کئی اضلاع میں 30 سے 40 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل سکتی ہیں۔ جمشید پور میں کھرکئی اور سورن ریکھا ندیاں خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہیں۔ اڈیشہ کے ساتھ جھارکھنڈ کے ڈیم سے پانی چھوڑے جانے کی وجہ سے آبی سطح بڑھی ہے۔ انتظامیہ نے نشیبی علاقوں میں رہنے والوں سے محفوظ مقامات پر جانے کی اپیل کی ہے۔ گڑھوا میں شدید بارش اور ممکنہ سیلاب کے پیش نظر 2 اور 3 ستمبر کو تمام اسکول بند رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ محکمۂ موسمیات کے مطابق جھارکھنڈ میں 5 ستمبر تک بادل چھائے رہیں گے اور کئی علاقوں میں شدید بارش کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔