.jpg?rect=0%2C0%2C2000%2C1125)
ملک میں ایل پی جی اور دیگر ایندھن کی بلا تعطل دستیابی کو یقینی بنانے کے دعوؤں کے باوجود گیس صارفین خالی سلنڈر لیے سڑکوں پر نظر آرہے ہیں اورایجنسی کے چکر لگارہے ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے جمع خوری کے خلاف سخت کارروائی کی وارننگ کا بھی زمین پر کوئی اثرہوتا نظرنہیں آرہا ہے۔ دہلی سے ممبئی تک ریسٹورنٹ کو ایل پی جی بحران کا سامنا ہے۔ کئی ریسٹورنٹ کے باہر’ایل پی جی بحران کی وجہ سے بند‘ کے بورڈ نظر آ رہے ہیں۔ اس دوران گیس ایجنسی کے ڈیلروں کے باہر لوگوں کی لمبی قطاریں نظر آ رہی ہیں۔
Published: undefined
اسی دوران پٹرولیم، جہاز رانی اور امور خارجہ کی وزارتوں نے موجودہ صورتحال پر اپ ڈیٹس کا اشتراک کرتے ہوئے بتایا ہے کہ مرکزی حکومت نے مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ملک میں ایل پی جی اور دیگر ایندھن کی بلا تعطل سپلائی کو برقرار رکھنے کے لیے اپنی کارروائیوں کو تیز کر دیا ہے۔ ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کے خلاف سخت موقف اپناتے ہوئے حکومت نے اب تک 12,000 چھاپے مارے ہیں، 15,000 سے زیادہ ایل پی جی سلنڈر ضبط کیے ہیں۔
Published: undefined
مغربی ایشیا میں جاری تنازعہ کے درمیان گجرات کے موربی میں سیرامک انڈسٹری نے منگل کو فیصلہ کیا کہ اس کے تقریباً 430 یونٹس کم از کم اگلے تین ہفتوں تک بند رہیں گے۔ انڈسٹری کے ایک اہلکار نے یہ معلومات دی۔ مغربی ایشیا میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری فوجی کشیدگی نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے جس سے گیس کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے۔ سیرامک انڈسٹری میں پروپین اور قدرتی گیس کا استعمال بھٹیوں کو جلانے اور مصنوعات کو خشک کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ اس لیے سپلائی میں رکاوٹ کی وجہ سے مینوفیکچرنگ ٹھپ ہوگئی ہے۔
Published: undefined
موربی سیرامک مینوفیکچرنگ ایسوسی ایشن کے صدر منوج اروادیہ نے بتایا کہ انڈسٹری سے وابستہ یونٹوں کی ایک خصوصی میٹنگ میں یہ اجتماعی فیصلہ لیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پروپین گیس پر انحصار کرنے والی یونٹیں بند ہوئیں اور بعد میں قدرتی گیس کا استعمال کرنے والی یونٹوں نے بھی کام روک دیا۔ فی الحال ان یونٹوں نے 10 سے 15 اپریل تک پیداوار بند رکھنے اور اس مدت کے دوران مشینری کی دیکھ بھال کا کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ گیس کی نئی سپلائی دستیاب ہونے پر ہی آپریشن دوبارہ شروع کیا جائے گا۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined