
راہل گاندھی / ایکس
لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی 4 اور 5 جون کو 2 روزہ اتراکھنڈ دورے پر ہیں۔ الموڑہ میں عوامی جلسہ، پوڑی میں سابق فوجیوں کی کانفرنس اور دہرادون میں تنظیمی میٹنگوں کے ذریعہ کانگریس 2027 کے اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ پارٹی کو امید ہے کہ یہ دورہ پارٹی میں نئی توانائی بھرے گا۔ لیکن پہاڑی علاقوں کے عوام کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ کیا راہل گاندھی ان مسائل پر بھی کھل کر بات کریں گے جو براہ راست لوگوں کی زندگی سے جڑے ہوئے ہیں۔ اگنی ویر اسکیم، مقامی نوجوانوں کا روزگار، انکیتا بھنڈاری معاملہ، پہاڑی علاقوں کی صحت خدمات، مذہبی سیاحت کا بڑھتا دباؤ اور دل بدل کی سیاست ایسے مسائل ہیں جن پر لوگوں کی نظر رہے گی۔
Published: undefined
اتراکھنڈ کو طویل عرصہ سے فوجیوں کی سرزمین مانا جاتا ہے۔ ریاست کے ہزاروں نوجوان فوج میں بھرتی ہونے کا خواب دیکھتے ہیں۔ ایسے میں اگنی ویر اسکیم کے حوالے سے یہاں مسلسل بحث ہوتی رہی ہے۔ کانگریس قومی سطح پر اس اسکیم کی مخالفت کرتی رہی ہے، لیکن اتراکھنڈ کے نوجوانوں کے درمیان سوال صرف مخالفت کا نہیں بلکہ متبادل کا بھی ہے۔ اگر اس اسکیم میں تبدیلی کی جائے تو اس کی جگہ کیا نظام ہوگا، اس کا جواب بھی لوگ سننا چاہتے ہیں۔
Published: undefined
روزگار کا دوسرا بڑا مسئلہ سڈکُل صنعتی علاقوں سے جڑا ہوا ہے۔ ہریدوار، پنت نگر اور سیلاکوئی کے صنعتی علاقوں سے مقامی نوجوانوں کو بڑی امیدیں تھیں۔ تاہم مختلف نوجوان تنظیموں اور مقامی لوگوں کے درمیان یہ شکایت اکثر سننے کو ملتی ہے کہ صنعتوں میں مقامی نوجوانوں کو متوقع مواقع نہیں مل رہے ہیں اور بیرونی ریاستوں کے لوگوں کی تعداد زیادہ دکھائی دیتی ہے۔ یہ مسئلہ وقتاً فوقتاً سیاسی بحث کا حصہ بھی بنتا رہا ہے۔ پہاڑ کے کئی گاؤں آج بھی بہتر روزگار کی تلاش میں ہونے والی نقل مکانی کی کہانی بیان کرتے ہیں۔
Published: undefined
ستمبر 2022 میں پیش آنے والے انکیتا بھنڈاری قتل کیس نے پورے اتراکھنڈ کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ یہ معاملہ صرف ایک مجرمانہ واقعہ نہ رہ کر اتراکھنڈ میں خواتین کے تحفظ، اقتدار کے اثر و رسوخ اور نظام انصاف پر اعتماد کا سوال بن گیا۔ پوڑی ضلع کی رہنے والی انکیتا کے خاندان اور کئی سماجی تنظیموں کی جانب سے وقتاً فوقتاً معاملے کے تمام پہلوؤں کی غیر جانبدارانہ جانچ کا مطالبہ اٹھتا رہا ہے۔ ریاست میں آج بھی یہ مسئلہ سیاسی اور سماجی بحث کا حصہ بنا ہوا ہے۔ اگر راہل گاندھی خواتین کے تحفظ اور انصاف کی بات کرتے ہیں تو یہ معاملہ یقیناً ان کے سامنے آئے گا۔
Published: undefined
اتراکھنڈ کے پہاڑی اضلاع میں طبی سہولیات کی صورت حال طویل عرصے سے تشویش کا موضوع رہی ہے۔ چمولی، رودرپریاگ، اترکاشی اور پتھورا گڑھ جیسے اضلاع میں رہنے والے لوگوں کو سنگین بیماری کی صورت میں اکثر دہرادون، رشی کیش یا ہلدوانی جانا پڑتا ہے۔ ماہر ڈاکٹروں کی کمی، جدید آلات کا فقدان اور دور دراز علاقوں تک صحت خدمات کی محدود رسائی کے حوالے سے وقتاً فوقتاً سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ ضلعی اسپتالوں کو مضبوط بنائے بغیر پہاڑی علاقوں کے نظام صحت میں بڑی تبدیلی ممکن نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صحت خدمات ہر انتخاب میں ایک بڑا مسئلہ بن جاتی ہیں۔
Published: undefined
چار دھام یاترا اتراکھنڈ کی معیشت کی ایک اہم بنیاد ہے۔ لاکھوں لوگوں کا روزگار اس سے وابستہ ہے۔ لیکن بڑھتی ہوئی بھیڑ کے ساتھ ماحولیات اور بنیادی ڈھانچے پر دباؤ بھی بڑھا ہے۔ جوشی مٹھ میں زمین دھنسنے کے واقعات کے بعد ترقی اور ماحولیات کے درمیان توازن پر بحث مزید تیز ہو گئی ہے۔ ماہرینِ ماحولیات کا ایک طبقہ طویل عرصہ سے مطالبہ کر رہا ہے کہ مذہبی سیاحت کو روکنے کے بجائے اسے سائنسی اور منظم طریقے سے چلایا جائے، تاکہ ماحولیات کو کم نقصان پہنچے اور مقامی لوگوں کو ٹریفک، کچرا انتظام اور وسائل پر بڑھتے دباؤ سے راحت مل سکے۔
Published: undefined
نینی تال ضلع کا قینچی دھام گزشتہ چند برسوں میں ملک کے مقبول ترین مذہبی مقامات میں شامل ہو چکا ہے۔ تعطیلات اور خصوصی مواقع پر یہاں آنے والے عقیدت مندوں کی تعداد اتنی بڑھ جاتی ہے کہ بھوالی-الموڑہ قومی شاہراہ پر کئی کلومیٹر طویل ٹریفک جام لگ جاتا ہے۔ سوشل میڈیا اور مقامی لوگوں کے درمیان یہ مسئلہ ہمیشہ زیر بحث رہتا ہے کہ سیاحت سے آمدنی میں اضافہ ہوا ہے، لیکن مسلسل بڑھتی ہوئی بھیڑ نے ٹریفک، پارکنگ اور بنیادی سہولیات پر دباؤ بھی بڑھا دیا ہے۔ مقامی باشندوں، اسکولی بچوں اور مریضوں کو بھی گھنٹوں جام میں پھنسنا پڑتا ہے۔ ایسے میں مذہبی سیاحت کے بہتر انتظام اور طویل مدتی منصوبہ بندی کا مطالبہ مسلسل اٹھ رہا ہے۔
Published: undefined
اتراکھنڈ کی سیاست میں دل بدل کوئی نیا موضوع نہیں ہے۔ ریاست کے قیام کے بعد کئی بڑے لیڈران اور اراکین اسمبلی وقتاً فوقتاً سیاسی پارٹیاں تبدیل کرتے رہے ہیں۔ اس سے سیاسی پارٹیوں کی نظریاتی وابستگی اور عوام کے اعتماد کے حوالے سے سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ نوجوان ووٹرس کے درمیان یہ بحث عام ہے کہ جو لیڈر ایک نظریے اور پارٹی کے نام پر ووٹ مانگتے ہیں، وہ بعد میں دوسری پارٹی میں کیوں چلے جاتے ہیں۔ ایسے میں راہل گاندھی کے سامنے یہ سوال بھی رہے گا کہ کیا کانگریس دَل بدل کرنے والے لیڈران سے متعلق کوئی واضح پالیسی پیش کرے گی اور کیا وہ تنظیم کے پرانے کارکنوں کو ترجیح دینے کا پیغام دے گی؟
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined