قومی خبریں

راہل گاندھی کے ’ستیہ گرہ‘ کو لوگوں کا خوب مل رہا ساتھ، چند گھنٹوں میں ہی 10 ہزار سے زائد درخواستیں موصول

راہل گاندھی نے کہا کہ ’’ہر درخواست پڑھی جائے گی۔ ہمیں تعلیم، بدعنوانی، سماجی انصاف، کسانوں، مزدوروں، صحت، خواتین کی حفاظت، زمین اور ماحولیات کے موضوعات سے متعلق کئی کہانیاں نظر آ رہی ہیں۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>گرافکس ’ایکس‘&nbsp;<a href="https://x.com/INCIndia">@INCIndia</a></p></div>

گرافکس ’ایکس‘ @INCIndia

 

ملک بھر میں اپنے حقوق کے لیے تنہا جنگ لڑنے والوں کے لیے کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے ’ستیہ گرہ‘ نام سے جو مہم شروع کی ہے، اسے لوگ خوب پسند کر رہے ہیں۔ لوگوں کے مسائل سننے اور ان کی حمایت میں کھڑے ہونے مقصد سے تیار ’ستیہ گرہ‘ کی ویب سائٹ پر بڑی تعداد میں درخواستیں موصول ہو رہی ہیں، جس کی اطلاع لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے خود دی ہے۔ انھوں نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر لکھا ہے کہ ’’ستیہ گرہ کو لائیو ہوئے 9 گھنٹے گزر چکے ہیں۔ اس کے بعد سے 10 ہزار سے زیادہ افراد اور گروپس سامنے آ چکے ہیں۔‘‘

راہل گاندھی نے بڑی تعداد میں درخواستیں موصول ہونے کی جانکاری دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’درخواستوں کی یہ بڑی تعداد اس بات کا مظہر ہے کہ ہندوستانی پہلے ہی خاموشی کے ساتھ کس قدر جدوجہد کر رہے ہیں۔ وہ اپنے حق کے لیے جنگ لڑ رہے ہیں کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ کوئی ان کی بات نہیں سن رہا تھا۔‘‘ موجودہ حالات پر فکر ظاہر کرنے کے بعد انھوں نے لکھا ہے کہ ’’ہم ان کی باتیں سن رہے ہیں۔ ہر درخواست پڑھی جائے گی۔ ہمیں تعلیم، بدعنوانی، سماجی انصاف، کسانوں، مزدوروں، صحت، خواتین کی حفاظت، زمین اور ماحولیات کے موضوعات سے متعلق کئی کہانیاں نظر آ رہی ہیں۔‘‘

راہل گاندھی نے بھروسہ دلایا ہے کہ ان کی ٹیم ہر ایک درخواست کا جائزہ لے گی، یہ طے کرے گی کہ کس طرح کی مدد کی جا سکتی ہے اور جہاں مزید تفصیلات کی ضرورت ہوگی، وہاں رابطہ بھی کیا جائے گا۔ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی یقین دلایا ہے کہ ’’جہاں کسی حقیقی مسائل کو حل کرنے کے لیے متعلقہ شخص یا ادارے کی جنگ کو مزید لوگوں تک پہنچانے کی ضرورت ہوگی، ہم ایسا کریں گے۔‘‘

کانگریس رکن پارلیمنٹ نے اس مہم کو مضبوطی کے ساتھ آگے بڑھانے کا عزم ظاہر کیا اور کہا کہ ’’یہ صرف آغاز ہے۔ ستیہ گرہ یک روزہ مہم نہیں ہے، یہ برسوں تک جاری رہے گی اور ہر تحریک کے ساتھ کھڑی رہے گی، چاہے وہ بڑا ہو یا چھوٹا۔‘‘ اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں راہل گاندھی نے آواز اٹھانے والوں اور آئین کے لیے کھڑے ہونے والوں کا شکریہ بھی ادا کیا۔ ساتھ ہی انھوں نے گزارش کی کہ ’’اگر آپ نے ابھی تک ہمیں اپنی جنگ کے بارے میں نہیں بتایا ہے، تو اپنی کہانی مجھے ضرور بتائیں۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔