قومی خبریں

راہل گاندھی کا حکومت سے تلخ سوال: بہوجن صنعت کاروں کو سرکاری ٹھیکوں سے کیوں باہر رکھا جارہا ہے؟

کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے کہا کہ پالیسی کے مطابق پبلک پروکیورمنٹ کےعمل کے تحت 25 فیصد خریداری ایم ایس ایم ای سے ہونی چاہیےجس میں سے 4 فیصد خریداری دلت اور قبائلی کاروباریوں سے کی جانا طے ہے۔

<div class="paragraphs"><p>راہل گاندھی / ایکس</p></div>

راہل گاندھی / ایکس

 

 لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے پارلیمنٹ میں پوچھے گئے سوال اور اس پر حکومت کے جواب کا حوالہ دیتے ہوئے منگل کو کہا کہ بہوجن صنعت کاروں کو ملک کے سب سے بڑے عوامی ٹھیکوں سے باہر کیوں رکھا جا رہا ہے۔ راہل گاندھی نے گزشتہ 2 اپریل کو لوک سبھا میں وزارت ہاؤسنگ اور شہری امور سے متعلق تحریری سوالات پوچھے تھے۔ کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے منگل کے روز فیس بک پر کی گئی ایک پوسٹ میں بتایا کہ ’’میں نے پارلیمنٹ میں حکومت سے پوچھا کہ پچھلے سال 16,500 کروڑ روپئے کے عوامی کاموں کے ٹھیکوں میں کتنے ٹھیکے دلت، قبائلی اور پسماندہ طبقات کے کاروباریوں کو ملے؟ ان کا جواب انتہائی تشویشناک تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس سلسلے میں کوئی ڈیٹا ہی نہیں رکھتی ہے‘‘۔

Published: undefined

کانگریس کے سینئر لیڈر نے کہا کہ پالیسی کے مطابق پبلک پروکیورمنٹ کے عمل کے تحت 25 فیصد خریداری ایم ایس ایم ای سے ہونی چاہیے جس میں سے 4 فیصد خریداری دلت اور قبائلی کاروباریوں سے کی جانا طے ہے لیکن جب بات سب سے بڑے اور سب سے زیادہ منافع بخش ٹھیکوں اور عوامی کاموں کی کی جاتی ہے تو حکومت کہتی ہے کہ یہ ’’لازمی‘‘ نہیں ہے۔ رائے بریلی سے لوک سبھا کے رکن راہل گاندھی نے دعوی کیا کہ یہ صرف ایک انتظامی کوتاہی نہیں ہے، یہ مودی حکومت کی پالیسیوں کے ذریعہ دانستہ طور پر بنائے گئے بائیکاٹ کا نظام ہے جو سماجی اور اقتصافی انصاف کو کمزور کرتا ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ سوال بہت سیدھا ہے کہ ملک کے سب سے بڑے عوامی ٹھیکوں سے بہوجن کاروباریوں کو باہر کیوں رکھا جا رہا ہے؟

Published: undefined

راہل گاندھی کے سوال کے جواب میں ہاؤسنگ اور شہری امور کے وزیر مملکت توکھن ساہو نے پچھلے 5 سالوں کے دوران دیئے گئے عوامی کاموں اور بنیادی ڈھانچے کے ٹھیکوں کی سال بہ سال تعداد اور لاگت کی فہرست فراہم کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ فی الحال درج فہرست ذات (ایس سی)، درج فہرست قبائل (ایس ٹی اور دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) سے تعلق رکھنے والے افراد کی ملکیت والی صنعتوں کو دیئے گئے ٹھیکوں کے بارے میں پتا لگانے کے لیے فی الحال کوئی طریقہ کار موجود نہیں ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined