قومی خبریں

ویڈیو: راہل گاندھی کی طلبہ سے تجاویز اور دستخطی مہم میں شامل ہونے کی اپیل، نظامِ تعلیم پر شدید تنقید

راہل گاندھی نے ’چھاتروں کی گونج‘ مہم کے تحت طلبہ سے تجاویز اور دستخطی مہم میں شامل ہونے کی اپیل کرتے ہوئے مہنگی تعلیم، امتحانی بے ضابطگیوں اور روزگار کے مسائل کو قومی مسئلہ قرار دیا

<div class="paragraphs"><p>راہل گاندھی / ویڈیو گریب</p></div>

راہل گاندھی / ویڈیو گریب

 

نئی دہلی: لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے سینئر لیڈر راہل گاندھی نے ’چھتروں کی گونج‘ مہم کے تحت ملک بھر کے طلبہ سے دستخطی مہم میں شامل ہونے اور اپنی تجاویز پیش کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگی تعلیم، امتحانی بے ضابطگیاں اور باوقار روزگار کی کمی جیسے مسائل صرف سیاسی نہیں بلکہ قومی نوعیت کے مسائل ہیں، جن کے حل کے لیے نوجوانوں کی آواز کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔

Published: undefined

راہل گاندھی نے ایکس پر جاری اپنے پیغام میں کہا کہ اگر کسی طالب علم نے پرچہ افشا ہونے، امتحانات میں بے ضابطگیوں یا بڑھتی ہوئی فیسوں کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کیا ہے، اگر موجودہ نظام نے اس کے خواب توڑے ہیں یا اگر خاندان نے اس کی تعلیم کے لیے زندگی بھر کی جمع پونجی خرچ کی ہے تو ’چھاتروں کی گونج‘ اسی کی آواز ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ محض ایک مہم نہیں بلکہ نوجوانوں کے مطالبات حکومت تک پہنچانے کا ذریعہ ہے۔ ان کے مطابق سستی تعلیم، منصفانہ امتحانات اور باوقار روزگار ہر طالب علم کا حق ہے۔

کانگریس رہنما نے طلبہ سے اپیل کی کہ وہ اس مہم میں شامل ہو کر اپنے خیالات اور تجاویز پیش کریں اور دستخطی مہم کا حصہ بنیں تاکہ زیادہ سے زیادہ آوازیں ایک مشترکہ مطالبے میں تبدیل ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر دستخط اس جدوجہد کو مزید طاقت دے گا۔

Published: undefined

ایک اور پیغام میں راہل گاندھی نے راجستھان کے شہر کوٹا میں منعقدہ پروگرام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں ہزاروں طلبہ نے شرکت کی جبکہ لاکھوں افراد نے اسے آن لائن دیکھا۔ ان کے مطابق اس پروگرام کے ذریعے پہلی بار ملک بھر میں کھل کر یہ بات سامنے آئی کہ تعلیم کے نام پر کس طرح بھاری مالی بوجھ طلبہ اور ان کے خاندانوں پر ڈالا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوٹا میں جلنے والی شمع کو اب پورے ملک میں تبدیلی کی مشعل بنانا ہے اور اس سفر میں نوجوانوں کا کردار اہم ہوگا۔

کوٹا میں اپنے خطاب کے حوالے سے جاری ویڈیو پیغام میں راہل گاندھی نے کہا کہ ہندوستان کا موجودہ تعلیمی نظام طلبہ کی صلاحیتوں اور تخلیقی سوچ کو مرکز میں رکھ کر تشکیل نہیں دیا گیا۔ ان کے مطابق یہ نظام نوجوانوں کو محدود خانوں میں تقسیم کر دیتا ہے اور انہیں صرف چند مخصوص پیشوں تک محدود کر دیتا ہے، جبکہ تعلیم کا مقصد تخیل اور صلاحیتوں کو آزاد کرنا ہونا چاہیے۔

Published: undefined

انہوں نے کہا کہ موجودہ نظام کا سب سے افسوسناک پہلو تعلیم پر آنے والی بھاری لاگت ہے۔ ان کے مطابق لاکھوں خاندان اپنے بچوں کو طبی داخلہ امتحانات کی تیاری کرانے پر اتنی رقم خرچ کرتے ہیں جتنی مرکزی حکومت پورے تعلیمی بجٹ میں فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے اسے باعث شرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس صورت حال کو تبدیل کرنا وقت کی ضرورت ہے۔

راہل گاندھی نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ نوجوان اپنے خوابوں، خیالات اور اس تعلیمی نظام کے بارے میں اپنی توقعات سے آگاہ کریں، کیونکہ تعلیم، مستقبل اور اس سے جڑی جدوجہد نوجوانوں ہی کی ہے اور ان کی آواز کو سنا جانا چاہیے۔

Published: undefined

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined