فائل تصویر آئی اے این ایس
اداکار سے سیاست دان بنے وجے کے وزیر اعلی بننے اور تمل ناڈو میں حکومت بنانے کا راستہ مکمل طور پر صاف ہو گیا ہے۔ وی سی کےاور آئی یو ایم ایل نے ان کی پارٹی ٹی وی کےکی غیر مشروط حمایت کا اعلان کیا۔ دونوں پارٹیوں کے دو دو ایم ایل اے ہیں۔ وجے کو اب 120 ایم ایل اے کی حمایت حاصل ہے۔ تمل ناڈو اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے کے لیے 118 ایم ایل ایز کی ضرورت ہے۔
Published: undefined
وجے نے ہفتہ کی شام تمل ناڈو کے گورنر راجندر وشواناتھ ارلیکر سے ملاقات کی اور 120 ایم ایل ایز کی جانب سے حمایت کا خط پیش کیا۔ اس کے بعد گورنر نے وجے کی پارٹی ٹی وی کے کو تمل ناڈو میں حکومت بنانے کے لیے ہری جھنڈی دے دی۔ وجے کی پارٹی ٹی وی کے کی قیادت والی نئی حکومت کی حلف برداری کی تقریب آج یعنی10 مئی کو تمل ناڈو میں ہوگی۔
Published: undefined
وجے آج صبح 10 بجے وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لیں گے۔ راہل گاندھی کل چنئی میں وجے کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کریں گے۔ ذرائع کے مطابق، وجے حلف برداری کی تقریب کو ری شیڈول کرنا چاہتے تھے، لیکن ان کے نجومی نے صبح 10 بجے کو اچھا سمجھا۔ یہی وجہ ہے کہ گورنر سے ان کی ملاقات تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہی۔ اس دوران وجے اپنے نجومی سے مسلسل رابطے میں تھے۔ واضح رہےگورنر نے نامزد وزیر اعلیٰ وجے کو ہدایت کی ہے کہ وہ 13 مئی 2026 کو یا اس سے پہلے اسمبلی میں اپنی اکثریت ثابت کریں۔
Published: undefined
وجے کی دو سالہ ٹی وی کےاس الیکشن میں سب سے بڑی پارٹی کے طور پر ابھری، جس نے 108 سیٹیں جیت کر ڈی ایم کے اور اے آئی اے ڈی ایم کے جیسے دراوڑ سیاسی ہیوی ویٹ کو پیچھے چھوڑ دیا۔ تاہم، وجے کو اپنی دو میں سے ایک سیٹ چھوڑنی پڑے گی، اس لیے پارٹی کے ایم ایل ایز کی اصل تعداد 107 ہے۔
Published: undefined
ڈی ایم کے کے ساتھ اتحاد میں الیکشن لڑنے والی کانگریس نے پانچ سیٹیں جیتیں۔ تمل ناڈو کے انتخابی نتائج کے بعد، کانگریس ڈی ایم کے سے الگ ہونے اور ٹی وی کےکی حمایت کرنے والی پہلی پارٹی بن گئی۔ بائیں بازو کی جماعتوں نے اپنے چار ایم ایل ایز کے ساتھ وجے کی حمایت کا اعلان بھی کیا ہے۔ اب، وی سی کےاور آئی یو ایم ایل کے اضافے کے ساتھ، ٹی وی کےنے اکثریت کا ہندسہ عبور کر لیا ہے۔ 234 رکنی تمل ناڈو اسمبلی میں اکثریت کا نمبر 118 ہے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined