
راہل گاندھی / ویڈیو گریب
نئی دہلی: لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے سینئر لیڈر راہل گاندھی نے ہندوستان اور امریکہ کے درمیان ہونے والے تجارتی معاہدے پر وزیر اعظم نریندر مودی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدے سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہندوستان زیادہ مراعات دے رہا ہے جبکہ بدلے میں کم فائدہ حاصل کر رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ صورتحال امریکہ کے سامنے مکمل طور پر جھک جانے کے مترادف ہے۔
Published: undefined
راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ انہوں نے پارلیمنٹ میں اپنی تقریر کے دوران جیو جِتسو کھیل کی مثال دی تھی، کیونکہ اس کھیل میں حریف کو قابو میں کرنے کے لیے دباؤ اور گرفت کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاست میں بھی ایسے ہی دباؤ ہوتے ہیں جو عوام کو نظر نہیں آتے مگر فیصلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
Published: undefined
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کسانوں کے مفادات کو نظر انداز کیوں کیا گیا، امریکہ سے تیل اور دیگر اشیا کی زیادہ خریداری پر رضامندی کیوں ظاہر کی گئی اور ہر سال ایک سو ارب ڈالر کے اضافی درآمدات کی بات کیوں مانی گئی۔ راہل گاندھی نے یہ بھی کہا کہ ملک کا ڈیٹا غیر ملکی کمپنیوں کو دینے کا فیصلہ تشویشناک ہے اور اس سے ہندوستان ایک ’ڈیٹا کالونی‘ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق قومی معلومات کم قیمت پر امریکی کمپنیوں کے حوالے کی جا رہی ہیں۔
Published: undefined
راہل گاندھی نے امریکہ میں اڈانی سے متعلق مقدمات اور ایپسٹین معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کچھ فائلیں منظر عام پر نہیں لائی گئیں، جن میں اہم نام شامل ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مختلف قسم کے بیرونی اور داخلی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں، ایک جانب امریکہ کا دباؤ ہے تو دوسری طرف چین سرحد پر کشیدگی موجود ہے اور انہی حالات میں یہ معاہدہ طے پایا۔
کانگریس کا کہنا ہے کہ اس تجارتی معاہدے سے کسانوں، ٹیکسٹائل صنعت اور مجموعی معیشت کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور قومی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined