
راہل گاندھی / ویڈیو گریب
نئی دہلی: لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے سینئر لیڈر راہل گاندھی نے ملک میں نوجوانوں کے درمیان بڑھتی ہوئی خودکشیوں کے معاملے پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سال 2023 میں 66,955 نوجوانوں نے اپنی جان دی، جبکہ گزشتہ دس برسوں میں طلبہ کی خودکشی کے واقعات میں 65 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو ملک کے تعلیمی اور سماجی نظام پر سنگین سوال کھڑا کرتا ہے۔
Published: undefined
راہل گاندھی نے کہا کہ انہوں نے اس نہایت حساس اور اہم مسئلے پر پارلیمنٹ میں حکومت سے سوال کیا، مگر جواب میں سنجیدہ غور و فکر کے بجائے محض بہانے، خود ستائی اور جواب دہی سے بچنے کی کوشش سامنے آئی۔ ان کے مطابق حکومت نے مسئلے کی سنگینی کو تسلیم کرنے کے بجائے اسے نظرانداز کیا۔
انہوں نے حیدرآباد یونیورسٹی کے طالب علم روہت ویمولا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے کئی ہونہار طلبہ ہیں جو مختلف سماجی دباؤ، خاص طور پر ذات پات پر مبنی امتیاز کا شکار ہو کر انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ راہل گاندھی کے مطابق انہوں نے پارلیمنٹ میں ذات اور خودکشی کے درمیان ممکنہ تعلق پر سوال اٹھایا، لیکن حکومت نے طلبہ کی خودکشیوں کی وجوہات میں ذات پات کے امتیاز کو ماننے سے صاف انکار کر دیا۔
Published: undefined
انہوں نے مزید کہا کہ ذہنی صحت پر سرکاری خرچ کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا بھی کوئی واضح جواب نہیں دیا گیا، اور نہ ہی تعلیمی اداروں میں ذات پات پر مبنی امتیاز کے خلاف ادارہ جاتی جواب دہی کے لیے قانون سازی کے ارادے پر کوئی سنجیدہ موقف سامنے آیا۔
راہل گاندھی نے کہا کہ جب حکومت مسئلے کو ماننے کے لیے تیار ہی نہیں تو اس کا حل کیسے نکالا جا سکتا ہے۔ انہوں نے حکومت کے رویے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آنکھیں بند کر لینا، حقیقت کو نظرانداز کرنا اور سچ کو چھپانا کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتا۔
Published: undefined
انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نہ تو نوجوانوں کی فکر کرتی ہے اور نہ ہی ان کے مستقبل کے لیے کوئی واضح منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق ملک کے طلبہ کو ایسی حکومت کی ضرورت ہے جو ان کی بات سنے، ان کے مسائل کو سمجھے اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined