قومی خبریں

اسمارٹ سٹی مشن پر راہل گاندھی کا سوال، 48 ہزار کروڑ خرچ، مگر شہری زندگی میں کیا بدلا؟

راہل گاندھی نے اسمارٹ سٹی مشن پر حکومت سے جواب طلب کیا، دعویٰ کیا کہ اربوں روپے خرچ کے باوجود عام شہری کی زندگی میں ٹھوس بہتری نظر نہیں آئی، جبکہ حکومت نے 97 فیصد منصوبے مکمل بتائے

<div class="paragraphs"><p>راہل گاندھی، تصویر ’ایکس‘&nbsp;<a href="https://x.com/INCIndia">@INCIndia</a></p></div>

راہل گاندھی، تصویر ’ایکس‘ @INCIndia

 

لوک سبھا میں اسمارٹ سٹی مشن کو لے کر ایک بار پھر سیاسی بحث تیز ہو گئی ہے، جہاں کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے حکومت سے اس منصوبے کے حقیقی نتائج پر سوال اٹھاتے ہوئے اسے عوام کے ساتھ ’دھوکہ‘ قرار دیا۔ انہوں نے اپنی فیس بک پوسٹ میں کہا کہ کوئی بھی شہر اس وقت تک ’اسمارٹ‘ نہیں کہلا سکتا جب تک وہ اپنے شہریوں کو صاف پانی، بہتر فضا اور بنیادی تحفظ فراہم نہ کرے۔

راہل گاندھی نے کہا کہ وزیر اعظم اس منصوبے کی مسلسل تعریف کرتے رہے لیکن جب یہ منصوبہ اپنے اختتام کے قریب پہنچ رہا ہے تو اس کے نتائج مایوس کن نظر آتے ہیں۔ انہوں نے پارلیمنٹ میں سوال اٹھاتے ہوئے جاننا چاہا کہ اسمارٹ سٹی کی تعریف کیا ہے، کامیابی کا معیار کیا رکھا گیا، کتنے شہر واقعی بدلے اور عام لوگوں کی زندگی میں کیا ٹھوس بہتری آئی۔

Published: undefined

حکومت کی جانب سے دیے گئے جواب کے مطابق اسمارٹ سٹی مشن کے تحت مرکز نے تقریباً 48 ہزار کروڑ روپے مختص کیے، جن میں سے 47 ہزار کروڑ سے زیادہ کی مالی مدد جاری کی جا چکی ہے اور تقریباً 46 ہزار کروڑ روپے استعمال بھی ہو چکے ہیں۔ جواب میں یہ بھی بتایا گیا کہ اس منصوبے کے تحت 100 شہروں میں 8 ہزار سے زیادہ پروجیکٹ شروع کیے گئے، جن میں سے 97 فیصد مکمل ہو چکے ہیں جبکہ کچھ منصوبے ابھی عمل درآمد کے مرحلے میں ہیں۔

تاہم، راہل گاندھی نے اس دعوے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر واقعی 97 فیصد منصوبے مکمل ہو چکے ہیں تو پھر شہروں میں بنیادی مسائل کیوں برقرار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زمینی حقیقت یہ ہے کہ کئی شہروں میں آلودہ پانی، کھلے نالے، گرتے پل اور دھنسکتی سڑکیں عام ہیں، جو اس منصوبے کی ناکامی کو ظاہر کرتی ہیں۔

Published: undefined

وزیر مملکت برائے شہری امور توشن ساہو نے اپنے جواب میں وضاحت کی کہ اسمارٹ سٹی مشن کا مقصد پورے شہر کی یکساں ترقی نہیں بلکہ مخصوص علاقوں میں جدید سہولیات فراہم کرنا تھا، جس کے تحت ریٹروفٹنگ، ری ڈیولپمنٹ اور گرین فیلڈ منصوبے شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس ماڈل کے ذریعے شہر کے کچھ حصوں میں ترقی کا نمونہ تیار کرنا مقصود تھا، تاکہ اسے دیگر علاقوں میں بھی اپنایا جا سکے۔

حکومت نے یہ بھی بتایا کہ نیتی آیوگ کی ایک رپورٹ کے مطابق اسمارٹ سٹی مشن نے شہری ترقی کے میدان میں اپنی اہمیت ثابت کی ہے اور یہ قومی ترقیاتی اہداف کے مطابق ہے۔ اس کے باوجود اپوزیشن اس بات پر زور دے رہی ہے کہ یہ منصوبہ عام شہری کی زندگی میں واضح تبدیلی لانے میں ناکام رہا۔

Published: undefined

راہل گاندھی نے اپنی پوسٹ کے اختتام پر عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے اپنے شہروں کا جائزہ لیں اور خود فیصلہ کریں کہ آیا یہ وہی ’اسمارٹ سٹی‘ ہے جس کا وعدہ کیا گیا تھا یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑی بڑی اعلانات اور تشہیر کے باوجود جوابدہی کا فقدان اس منصوبے کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔

یہ معاملہ آنے والے دنوں میں مزید سیاسی بحث کو جنم دے سکتا ہے، کیونکہ ایک طرف حکومت اپنے اعداد و شمار کے ذریعے کامیابی کا دعویٰ کر رہی ہے، تو دوسری طرف اپوزیشن زمینی حقائق کی بنیاد پر اس پر سوال اٹھا رہی ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined