قومی خبریں

راہل گاندھی نے جھارکھنڈ حکومت اور طلبا کے درمیان اتفاقِ رائے کا کیا خیرمقدم، کہا- ’یہی صحیح طریقہ ہے‘

جھارکھنڈ میں طلبا کی بھوک ہڑتال ختم ہونے اور حکومت سے اتفاقِ رائے کے بعد راہل گاندھی نے اس کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ طلبا کے سوالوں کا جواب بات چیت سے دینا ہی صحیح طریقہ ہے

<div class="paragraphs"><p>قائد حزب اختلاف راہل گاندھی / ویڈیو گریب</p></div>

قائد حزب اختلاف راہل گاندھی / ویڈیو گریب

 

نئی دہلی: جھارکھنڈ میں مختلف مطالبات کو لے کر احتجاج اور بھوک ہڑتال کرنے والے طلبا اور ریاستی حکومت کے درمیان اتفاقِ رائے قائم ہونے پر لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے خوشی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور طلبا کے درمیان بات چیت کے ذریعے مسئلے کا حل نکالنا ہی صحیح طریقہ ہے۔

راہل گاندھی نے منگل کو ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ جھارکھنڈ کے طلبا اور ریاستی حکومت کے درمیان اتفاقِ رائے ہوا ہے اور طلبا نے اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی ہے، یہ خبر سن کر انہیں بہت خوشی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین اور جھارکھنڈ حکومت نے بات چیت کا راستہ اختیار کیا اور مسئلے کا حل نکالا، جبکہ طلبا نے تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی بات منوائی۔

کانگریس رہنما نے کہا، ’’یہی صحیح طریقہ ہے۔ طلبا سوال پوچھیں تو انہیں جواب ملنا چاہیے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ وہ ملک کے ہر طالب علم کے ساتھ کھڑے ہیں اور ایسے نظام کو جڑ سے بدلنے کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے، جس میں طلبا کو اپنی محنت کا منصفانہ نتیجہ اور غیر جانب دارانہ مسابقت کا حق مل سکے۔

راہل گاندھی نے کہا کہ پورے ملک میں اس نظام کو تبدیل کیا جائے گا اور ایسا نظام قائم کیا جائے گی جو طلبا کو آگے بڑھنے کا موقع دے، نہ کہ ان کی راہ میں رکاوٹ بنے۔

واضح رہے کہ جھارکھنڈ میں جے ایس ایس سی سی جی ایل امتحان اور ٹی ڈی پی ایل ایجنسی کے ذریعے کرائے گئے تمام امتحانات کو منسوخ کرنے کے حکومت کے اعلان کے بعد طلبا اور ریاستی حکومت کے درمیان اتفاقِ رائے قائم ہوا۔ اس اعلان کے بعد رانچی صدر اسپتال میں بھوک ہڑتال پر بیٹھے طلبا رہنماؤں سے ملاقات کے لیے ریاستی حکومت کی وزیر دیپیکا پانڈے سنگھ اور وزیر عرفان انصاری دیر رات اسپتال پہنچے۔

دونوں وزرا نے طالب علم رہنما دیویندر مہتو کو جوس پلا کر ان کی بھوک ہڑتال ختم کرائی۔ اس کے علاوہ حبیبہ اور راہل کا بھی انشن ختم کرایا گیا۔ بھوک ہڑتال ختم کرنے کے بعد دیویندر مہتو اسپتال سے اپنے گھر روانہ ہوگئے۔

دیویندر مہتو نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ انہوں نے ’’باعزت طریقے‘‘ سے اپنا انشن ختم کیا ہے۔ ان کے مطابق وزیر عرفان انصاری، وزیر دیپیکا پانڈے اور رکن اسمبلی جے رام مہتو کی مشترکہ کوششوں کے بعد بھوک ہڑتال ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جن مطالبات کو لے کر طلبا آئینی اور پُرامن طریقے سے احتجاج کر رہے تھے، وہ تمام مطالبات پورے ہوگئے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔